ریاست مہاراشٹر سے شروع ہوا لاؤڈ اسپیکر سے اذان پر پابندی کا معاملہ اب اتر پردیش پہنچ گیا ہے۔ اتر پردیش کے بنارس ضلع میں بی جے پی کارکنان اور ہندو تنظیموں کے اراکین نے اذان کے وقت اپنے گھروں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسا کا پاٹھ شروع کر دیا ہے۔ شری کاشی وشو ناتھ گیان واپی مکتی تنظیم کی جانب سے یہ مہم شروع کی گئی ہے۔ اس تنظیم کے صدر نے اپنے گھر سے اس کی شروعات کی ہے اور چھت پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ صبح لاؤڈ اسپیکر پر اذان سے لوگوں کی نیند میں خلل پڑتا ہے، 'ہم احساس دلانے کے لیے ایسا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندو مسلم اتحاد چاہتے ہیں، لیکن اکیلے ہم نے ہی اس کا ٹھیکہ نہیں لیا ہے۔ ان کو(مسلم) بھی سمجھنا پڑے گا۔Hanuman Chalisa against azaan in UP
سدھیر کمار سنگھ نے کہا کہ پہلے ہم لوگ سو کر اٹھتے تھے، تو اس وقت مانس مندر اور دیگر مندروں میں ویدک منتر کا پاٹھ ہوتا تھا لیکن اتنا دباؤ بنایا گیا کہ یہ سب چیزیں بند ہوگئیں۔ سپریم کورٹ کا حکم تھا کہ لاؤڈ اسپیکر سے صوتی آلودگی ہوتی ہے جس کے بعد مندروں سے بیشتر لاؤڈ اسپیکر اتار دیے گئے لیکن ان کے مسجدوں پر لاوڈ اسپیکر کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا آج حالت یہ ہے کہ صبح ساڑھے چار بجے نیند کھل جاتی ہے۔