لکھنو: امام باڑہ کے مشرقی سمت میں پانچ منزل شاہی باولی کنواں موجود ہے جسے اودھ کے چوتھے نواب آصف الدولہ نے تعمیر کرائی تھی یہ کنوان فن تعمیر کا اعلی شاہکار ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے حجرے تعمیر ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں امام باڑے کے نگراں سپاہی رہتے تھے جو بھی شاہی باولی کی جانب آتا تھا اس کی تصویر پانی میں ظاہری ہوتی تھی اور اسی سے اس کے نقل و حرکت کا اندازہ ہوتا تھا۔
شاہی باولی کے تعلق سے عوام کے مابین کئی دلچسپ کہانیاں معروف ہیں جو آج بھی موضوع بحث رہتی ہیں یہاں پر کئی پر اسرار کہانیاں بتائی جاتی ہیں۔ لیکن مورخین کا کہنا ہے کہ ابھی کہانیاں من گھڑت ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نوابی خاندان سے تعلق رکھنے والے نواب مسعود عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک کہانی یہ معروف ہے کہ شاہی بوالی کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ لکھنو میں 1857 میں جب انگریزوں نے غدر کیا اور لوٹ پاٹ مچایا تو اس وقت نوابین اودھ کا خزانچی سبھی خزانوں کی چابھی لیکر باولی میں کود گیا تھا جس کی وجہ سے نوابین کا خزانہ انگریزوں کے ہاتھ نہیں لگا، حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو انگریز کنواں سے چابی تلاش کروالیتے۔