بابری مسجد کا تنازع سب سے پہلے 1528 کے دوران منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد کئی دہائیوں تک قانونی پیچیدگیوں اور زیرالتوا ثبوتوں کی وجہ سے یہ معاملہ عدالتوں میں زیر بحث رہا۔ اس دوران بابری مسجد کئی اہم واقعات کی گواہ رہی جبکہ چھ دسمبر 1992 کا وہ دن تھا، جس دن تاریخی بابری مسجد کو کارسیوکوں نے ڈھادیا تھا۔ تبھی سے ہر برس 6 دسمبر کو رام جنم بھومی کی حامی تنظیمیں ’شوریہ دیوس’ اور مسلم تنظیمیں ’یوم سیاہ‘ کے طور پر مناتے آرہے ہیں۔
اس معاملہ میں 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے 2.77 ایکڑ متنازع اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ 2010 میں ہندو اور مسلمان تنظیموں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر دی تھیں جس کے بعد 2011 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے نو نومبر 2019 کو بابری مسجد۔رام مندر اراضی تنازع کیس کا فیصلہ رام للا کے حق میں سنایا اور متنازع اراضی پر رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کردیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت والی سات ججوں کی آئینی بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع اراضی کو ہندو فریق رام للا کے حوالے کرنے کا فیصلہ جبکہ مسلم فریق سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین مہیا کرانے کا حکومت کو حکم دیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ مانا تھا کہ بابری مسجد کو مندر منہدم کرکے نہیں تعمیر کیا گیا تھا جبکہ وہاں مندر ہونے کا کوئی بھی ثبوت نہیں ملا ہے۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے 6 دسمبر 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کو مجرمانہ حرکت قرار دیا۔