جے پور: ممبئی ٹرین فائرنگ کے واقعہ کی اصل وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن معاملے کی جانچ کرنے والی جی آر پی نے ملزم چیتن سنگھ اور اسکارٹ ٹیم میں شامل دیگر آر پی ایف اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی ہے جس میں کئی چونکا دینے والی معلومات سامنے آئی ہیں۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ سے پہلے سورت ریلوے اسٹیشن پر ملزم چیتن سنگھ کی ٹرین میں موجود کچھ مسافروں کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا۔
چلتی ٹرین میں چیتن سنگھ چالیس منٹ تک موت کا خونی کھیل کھیلتا رہا، اس دوران اس نے اپنا ہتھیار لیکر ٹرین کے کئی ڈبوں میں گیا پھر اس نے 20 میں سے 12 راؤنڈ فائر کی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ چیتن گرم مزاج شخص ہے۔ واقعہ کے وقت وہ خود پر قابو کھو چکا تھا۔ اسی دوران ایک مسافر کے موبائل فون پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں چیتن کو مسافروں سے میڈیا کوریج، پاکستان اور سیاست کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں اس نے کہاکہ اگر آپ ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو یوگی، مودی اور اپنے ٹھاکرے کو ووٹ دیں۔
اس بات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ چیتن واقعی ذہنی مریض ہے یا نہیں؟ چیتن سنگھ نے اپنے ساتھیوں کانسٹیبل امے آچاریہ، نریندر پرمار اور سینئر اے ایس آئی تکارام مینا کے ساتھ سورت جانے والی ٹرین میں سوار ہوا تھا۔ ایک دن پہلے، وہ سوراشٹرا ایکسپریس کے ذریعے ممبئی سے ایک اسکارٹ ٹیم کے ساتھ سورت گیا تھا۔ سورت سے روانہ ہونے کے بعد سب کچھ ٹھیک تھا لیکن ولساڈ پہنچ کر چیتن نے اپنی خراب صحت کے بارے میں بتایا اور ڈیوٹی سے فارغ ہونے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھیوں نے اسے آرام کرنے کو کہا اور رائفل کو ایک طرف رکھنے کو کہا تاکہ وہ کچھ آرام کر سکے۔ اس دوران چیتن اپنے سینئر تکارام مینا سے بار بار ڈیوٹی سے فارغ کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اسی لیے آر پی ایف کنٹرول روم کو اطلاع دینے کے بعد ایک کانسٹیبل کو بھیجنے کو کہا گیا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد چیتن نے کہا کہ وہ اب تھوڑا بہتر محسوس کر رہا ہیں تو وہ اپنی ڈیوٹی پوری کرے گا۔