بھوپال: ہاکی ہندوستان کا قومی کھیل ہے۔ جب ہم اس کھیل کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کی تاریخ ہمیں زمانہ قدیم سے ہی ملتی ہیں۔ زمانہ قدیم میں عرب، گریس، رومنزس، پرشین اور ایتھوپیا کے باشندے اس کھیل کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ کھیلتے تھے۔ ہاکی کی ابتدا انگلینڈ میں 19 ویں صدی میں ہوئی تھی اور یہ کھیل وہاں کی اسکولوں میں بہت مقبول تھا۔ جب انگریز ہندوستان آئے تو ان کے فوجیوں نے ہاکی کھیل کو ہندوستان کے عوام کے سامنے متعارف کیا اور یہ کھیل ہندوستان کے موسم اور ماحول سے اس قدر میل رکھنے لگا کہ بہت جلد اس کھیل نے ہندوستان کے عوام میں اپنی جگہ بنالی۔ ہندوستان میں قومی کھیل ہاکی کا گولڈن دور 1928 سے 1956 تک مانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب ہمارے ہاکی کھلاڑیوں کے سامنے دنیا کی ہاکی کے کھلاڑی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوتے تھے۔
وہیں اس کھیل کی اتنی مقبولیت بڑھی کی بھوپال کو ہاکی نرسری کہا جاتا تھا۔ ریاست بھوپال میں ہاکی کا فروغ ریاستی عہد میں شروع ہوا۔ نواب شاہجہاں بیگم کے عہد میں 1819 میں سب سے پہلے ہاکی کا کھیل بھوپال میں آیا تھا۔ لیکن اس کھیل کو نئی زندگی نواب سلطان جہاں بیگم کے عہد میں ملی نواب سلطان جہاں بیگم کے عہد میں اس کھیل کے لیے باقاعدہ کلب بنائے گئے اور جب نواب حمید اللہ خان کا عہد آیا تو بھوپال نے ہاکی نرسری کے نام پر ملک میں شہرت حاصل کر لی تھی۔
ریاستی عہد میں نواب سلطان جہاں ان کے فرزند عبید اللہ خان، نصر اللہ خان اور حمید اللہ خان کے علاوہ راج گھرانے کی دوسرے لوگوں نے نہ صرف اس کھیل کی سرپرستی کی بلکہ وہ خود اس کھیل کے بہترین کھلاڑی تھے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کی ہاکی کو اگے لے جانے میں بھوپال ہاکی کے کھلاڑیوں کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ اس دور میں ہندوستانی ہاکی کی کوئی ایسی ٹیم بنی ہی نہیں جس میں بھوپال ہاکی نرسری کے کھلاڑی شامل نہ ہوئے ہوں۔ یہی نہیں اس عہد میں بھوپال ہاکی ونڈر کے نام سے جو ٹیم تھی اس کے سامنے ہندوستانی ہاکی ٹیم بھی ماند پڑ جاتی تھی اور کئی بار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ بھوپال وانڈر کے سامنے انڈین ہاکی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس طرح سے دارالحکومت بھوپال میں ہاکی کھیلی جا رہی تھی اس سے یہ امید تھی کہ بھوپال کے ہاکی ایک اعلی مقام تک جائے گی لیکن آزادی کے بعد اسی بھوپال کی ہاکی کو ایسا گہن لگا کہ وہ آج تک اس گہن سے باہر نہیں نکل سکی۔