گیا:بہار اسمبلی کے حزب اختلاف کے رہنماء وجے سنہا آج گیا ایک پروگرام میں پہنچے تھے۔ یہاں اُنہوں نے بہار حکومت اور انڈیا اتحاد کی پارٹیوں اور فلسطین کی حمایت کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنہوں نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے تعلق سے کہاکہ اپنے ملک کے ایک خاص فرقے کے لوگ ملک کی خارجہ پالیسیوں کے خلاف دوسرے ملک کو سپورٹ کر اپنے ملک کی خارجہ پالیسیوں کونقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے سبھی ہوشیار رہیں۔
اُن سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی بھی تنقید کی جو فلسطین میں اسرائیل کے ذریعے ہو رہے حملے کی مزمت کی ہے اور احتجاج کیا ہے۔ وجے سنہا نے اُنہیں جے چند قرار دیا اور کہاکہ اُنہیں یہیں یہ آزادی حاصل ہے، لیکن وہ ملک کی پالسیوں کی مخالفت کرکے ملک کے حق میں بہتر نہیں کررہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ آج یہ دوسرے ملک کے معاملے میں حمایت میں کھڑے ہیں، اگر اسی طرح پاکستان بھارت پر حملہ کرے گا، تو یہ اُنکے ساتھ بھی کھڑے ہونگے۔ پی ایف آئی کے ساتھ بھی یہ انڈیا اتحاد کے لوگ کھڑے ہیں اور مرکزی ایجنسیوں کی کاروائی پر سوال کھڑے کرتے ہیں، یہ ملک کا بھلا نہیں چاہتے ہیں۔
ہندؤں کے ساتھ ہورہی ہے نا انصافی
درگا پوجا کے موقع پر بہار میں اساتذہ کی چھٹی رد کیے جانے پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر حملہ بولتے ہوئے کہاکہ بہار حکومت نے امتیازی رویہ اختیار کیا ہے۔ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ایسا کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ حکومت اکثریتی فرقے کے تہواروں کے موقع پر اساتذہ کی چھٹی رد کر کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے میں لگی ہے۔ ہم بھی بہار میں معیاری تعلیم کی مانگ کرتے ہیں اور حکومت کا اس معاملے میں تعاون بھی کرتے ہیں، لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہندؤں کے بڑے تہواروں کی چھٹی رد کر دی جائے۔ حکومت کا یہ عمل درست نہیں ہے، اس سے پہلے بھی تہوار کے موقع پر ایسا ہی کیا گیا تھا۔