ایک ایسے وقت میں جب کہ وادی کشمیر میں بے روزگاری Unemployment in Kashmir Valley کی شرح میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری نوکری کو حاصل کرنے کے لیے تغ و دو کر رہے ہیں۔
وہیں جنوبی کشمیر کے ترال کے پشماندہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے بلال احمد نے تمام تر مشکلات کے باوجود ڈرائی فروٹ کا کاروبار Dry Fruit Business شروع کرکے بے روزگاری سے پریشان نوجوانوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ Dry Fruit Business in Kashmir
ڈرائی فروٹ کے کاروباری بلال احمد بٹ بلال احمد بٹ کی ڈرائی فروٹ کی دوکان Dry Fruit Shop سرینگر جموں قومی شاہراہ کے لیتہ پورہ میں واقع ہے۔
بلال اپنے اس کاروبار بہت خوش ہیں اور دوسرے بے روزگار نوجوانوں کو خود روزگار پیدا کرنے کی نصیحت بھی کر رہے ہیں۔
ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے بلال احمد نے بتایا کہ کچھ کرنے کا جذبہ اس کے اندر بچپن سے ہی موجود تھا، اس لیے سرکاری نوکری کے پیچھے نہ پڑنے کے بجائے میں نے پہلے چٹائی کا کاروبار شروع کیا اور ایک کامیاب یونٹ بننے کے بعد میں نے وہ کاروبار بھائی کے حوالے کردیا۔
یہ بھی پڑھیں:
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’اس کے بعد ڈرائی فروٹ کا کاروبار شروع کیا، کیونکہ کشمیر کا ڈرائی فروٹ عالمی سطح پر معروف ہے، تین سال قبل میں نے یہ کاروبار شروع کیا اور آج اللہ کا شکر ہے کہ ملک کی تمام ریاستوں میں اپنے مال کو بھیجا جارہا ہے۔‘‘
بلال نے مزید بتایا کہ دفعہ 370 کے بعد پہلے ہمیں مشکلات کا اندیشہ تھا لیکن بعد ازاں حالات معمول پر آگئے اور امسال تو ریکارڈ تعداد میں سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا جس کی وجہ سے کاروبار بھی اچھا چلا۔
بلال کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے ڈرائی فروٹ کی قیمتوں پر اثر تو پڑا جس کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوا لیکن ہمارے ملک میں اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔