وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اترپردیش پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ منتخب 2846لیکچرار اور ٹیچروں کو تقرری نامہ دینے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انکے دور حکومت میں ساڑھے چار لاکھ افراد کو نوکریاں فراہم کی گئی ہیں۔
اس دوران انہوں نے کہا کہ ’’ٹیچروں کو کبھی بھی سیکھنا ترک نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ان کی روح میں طالب علمی باقی رہے تو وہ ایک معتبر اور قابل ٹیچر بن سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا کام پوری ایمانداری سے کرو گے تو آپ طالب علموں کے عزت واکرام کو حاصل کر پائو گے لیکن اگر آپ اپنی عدم توجہی کی وجہ سے ان کے مستقبل کو تباہ کرو گے تو اس کا نتیجہ آپ کو بھی جھیلنا ہی پڑے گا۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’کافی عرصے کے بعد ریاست میں ٹیچروں کی تقرری کا کام نہایت شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے کیا گیا ہے۔ حکومت نے گزشتہ چار برسوں کے دوران ٹیچرز کی خالی اسامیوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران بغیر کسی سفارش کے 1.5لاکھ ٹیچروں کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔
اپنے خطاب کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سال 2017 سے قبل کوالیفکیشن رکھنے کے باوجود سسٹم میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق امیدواروں کو بھی نوکری نہیں ملتی تھی لیکن سال 2017 کے بعدسلیکشن کے عمل میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی ہے اور تمام مستحق امیدوار کو نوکری ملی ہے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 53مہینوں کے میعاد کار میں حکومت نے تقریبا 4.50لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا ہے۔ ’’ان تمام تقرریوں پر سابق حکومتوں کی بے ایمانی کی وجہ سے عدالت کے اسٹے آرڈر (Stay Order) کا پہرہ تھا لیکن سال 2017 کے بعد جب ہماری حکومت بنی تو ایک ایک کر کے تمام مسائل کو حل کیا گیا۔‘‘