وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے مالی برس 2021-22 کے لئے آج 34,83,236 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔ جس میں سے 36 فیصد قرض اور دَین داروں سے حاصل کیا جائے گا۔
موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 20 فیصد قرض اور دیگر رقم دَین داروں سے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس طرح اگلے مالی برس میں قرض پر انحصار کافی بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2021-22 میں حکومت کی آمدنی کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ جی ایس ٹی ہوگا۔ اس سے حکومت کو پندرہ فیصد ریونیو حاصل ہونے کی امید ہے۔ انکم ٹیکس سے 14 فیصد اور کارپوریشن ٹیکس سے 13فیصد ریونیو حاصل ہوگا۔
سینٹرل ایکسائز کا دائرہ پیٹرول ۔ ڈیزل، طیارہ ایندھن، شراب وغیرہ جیسے چنندہ مصنوعات تک محدود ہونے کے باوجود حکومت کے ریونیو میں اس کا تعاون آٹھ فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ ہر ایک روپے کے ریونیو میں ٹیکس سے مختلف آمدنی کا حصہ چھ پیسے اور قرض سے حاصل ریونیو کا حصہ پانچ پیسے ہوگا۔ کسٹم سے تین فیصد کی آمدنی ہوگی۔