واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں ترکی، چین اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بات کی ہے۔ انہوں نے شام میں اسرائیلی حملے پر ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکی کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے ہم منصبوں سے بات کی۔ اس گفتگو میں بلنکن نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ الجزیرہ نے امریکی محکمہ خارجہ کے حوالے سے یہ رپورٹ دی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خاص طور پر ایران کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد اضافے کے خطرے پر بہت فکر مند ہے۔ وہیں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے بھی کہا کہ انہوں نے اس معاملے کے حوالے سے اپنے ایرانی ہم منصب سے بات کی اور واضح کیا کہ 'ایران مشرق وسطیٰ کو وسیع تر تنازعے کی طرف نہیں گھسیٹنے سے پرہیز کرے۔
سوشل میڈیا 'ایکس' پر پوسٹ کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے لکھا کہ آج میں نے وزیر خارجہ امیر عبداللہیان پر واضح کر دیا کہ ایران مشرق وسطیٰ کو وسیع تر تنازعے کی طرف نہ گھسیٹے۔ مجھے بہت تشویش ہے کہ غلط اندازہ اور کارروائی مزید تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے بجائے ایران کو کشیدگی کم کرنے اور مزید حملوں کو روکنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
الجزیرہ کی خبر کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ایران کے کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو فون کیا اور ایران کی جانب سے براہ راست حملے کے امکان کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔