مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن اور امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش کے امیر حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے حالیہ دنوں کے دوران اتراکھنڈ میں دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بیانات اور مسلمانوں کے خلاف کی گئی زہرافشانی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ Maulan Jafar Pasha condemned Hate Speech Against Muslims at Dharam Sansad
انہوں نے اپنے بیان میں دھرم سنسد میں ان ہندوتوا تنظیموں کے ذمہ داروں کی مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کو ناقابل قبول قراردیا۔ ساتھ ہی انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر ان ہندوتوا تنظیموں کے نمائندوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ Maulan Jafar Pasha on Dharam Sansad Haridwar
انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دھرم سنسد کا اہتمام ہی مسلمانوں کی نسل کشی کے ایجنڈہ کو سامنے رکھنے کیلئے کیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں اتراکھنڈ کی ریاستی حکومت کی خاموشی دراصل ایسے افراد کی پشت پناہی کے برابر ہے۔ Haridwar Dharam Sansad Call for Muslim Genocide
انہوں نے کہا کہ دھرم سنسد میں ان شرپسندوں کی حرکتوں اور ان کے ناپاک عزائم و منصوبوں نے ملک میں سیکولر تانے بانے کو نقصان پہنچانے کا کام کیا ہے۔ ساتھ ہی سیکولر ذہنیت کے حامل افراد دانشوروں اور بالخصوص گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار افراد کو بھی ایسے بیانات نے دہلا کر رکھ دیا ہے۔ مرکزی حکومت کی بھی اس پر خاموشی معنی خیز ہے۔
امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش کے امیر نے کہا کہ مسلمان بھی اس ملک کے مساوی شہری ہیں اور ان کو بھی دیگر شہریوں کی طرح اس ملک میں رہنے کا حق حاصل ہے۔ مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کو نچھاور کیا اور آج ان ہی کی نسل کشی کی بات کی جارہی ہے جو ایک تشویش کی بات ہے۔
- مزید پڑھیں: Owisi on Dharam Sansad Hate Speech: اویسی کا مطالبہ، مسلم نسل کشی کی بات کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے
انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو دوبارہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کو ختم کرنے کی ناپاک سازش کی جارہی ہے۔ اس طرح کے نام نہاد دھرم سنسد کے ذریعہ نئی نسل کو مسلمانوں کے خلاف ورغلاتے ہوئے اشتعال انگیزی کی کوشش کرنے والوں کی ناپاک حرکات اور گندی سونچ کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ان کی شرپسندی اور حرکات کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے۔ ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے۔
یو این آئی