اس واقعے کے بعد جمعیت علمأ ہند کی ریاستی یونٹ کے ذمہ داران نے پیر کے روز متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور متاثرین سے بات چیت بھی کی۔
جمیعۃ علماء مدھیہ پردیش کے نائب صدر مولانا محمد احمد نے کہا کہ چند غیر سماجی عناصر اور ناپسندیدہ طاقتوں نے یہاں اپنی گرفت بنانے کے مقصد سے بدامنی اور نفرت ماحول بنانا شروع کر دیا ہے اور یہ صورتحال قطعی برداشت نہیں کی جاسکتی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے سبھی مذاہب کے لوگوں کو ساتھ آکر کھڑا ہونا پڑے گا، ساتھ ہی ان کا مکمل سوشل بائیکاٹ کرکے ہی ریاست کی پرانی روایات کو زندہ رکھا جاسکے گا۔
مولانا محمد احمد نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی اور ان کے حالات کا جائزہ لیا ساتھ ہی متاثرین کو تسلی دی کہ کسی کے ساتھ بھی کوئی زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔
نمائندہ وفد کے ممبران نے ضلع کے اعلی افسران سے مل کر اجین میں کی جارہی مبینہ یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کی۔
انھوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کا ماحول خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور جن بے قصور لوگوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اسے فورا روکا جائے اور نقصان کا معاوضہ بھی فراہم کیا جائے۔
آپ کو یہاں واضح کرتے چلیں کہ 27 دسمبر کو وشو ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا اور اس تعلق سے وی ایچ پی کارکنان نے ایک بڑی ریلی نکالی جو اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے علاقوں سے بھی گزری جس کے بعد دو طبقوں کے درمیان پتھر بازی کا معاملہ پیش آیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے بڑی کارروائی کی گئی اور مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے چند نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور چند ایک کے گھر بھی مسمار کردیے گئے۔