ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ریڈی میڈ گارمنٹس کے دکانداروں نے کہا کہ گزشتہ برس پانچ اگست کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے دوران انہیں کافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔
دکانداروں نے کہا کہ ' اُن دنوں عید الاضحٰی قریب ہونے کے سبب دکانداروں نے کافی مال خرید لیا تھا تاکہ خریداروں کی بڑھتی مانگ کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ مال سیل(فروخت) کیا جائے۔ تاہم مسلسل کرفیو اور بندشوں کی وجہ سے ان کا سارا مال دکانوں کے اندر ہی پڑا رہا ہے۔ حالات آہستہ آہستہ پٹری پر لوٹنے کے ساتھ ساتھ دکانداروں میں یہ امید جاگ گئی کہ وہ آنے والے نئے سیزن میں موجودہ مال فروخت کریں گے۔'
تاہم انہیں اس وقت پھر ایک بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب کورونا وائرس کی دستک کے بعد کئے گئے لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی دکانوں پر دوبارہ تالا چڑھ گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی حالات کی مار جھیل چکے تھے تاہم کووڈ لاک ڈاون نے ان کی رہی سہی کسر نکال دی جس کے نتیجے میں وہ مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق وہ دکانوں کے کرایہ بھی ادا کرنے کی استقامت نہیں رکھتے ہیں۔ دکان مالکان کی جانب سے تنگ کرنے کے بعد وہ قرضہ لے کر دکان کا کرایہ چکا رہے ہیں۔
وہیں کاروبار کے خاطر بینک سے لئے گئے قرضہ کی قسط اور سود کے بوجھ تلے دب جانے سے وہ ذہنی کوفت کا شکار ہوئے ہیں اور ذریعہ آمدنی کا وسیلہ بند ہونے کے سبب نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال ایسی رہی تو وہ اپنا کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔