مغربی بنگال پردیش کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری نے حکمراں جماعت ترنمول کانگریس اور بی جے کی قیادت والی مرکزی حکومت کی شدید نکتہ چینی کی، انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے رہنماؤں کے پاس ترقیاتی منصوبے نہیں ہیں، شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی سمیت دیگر منتازعہ معاملے کو موضوع بحث بنا کر انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔
ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور شہریت ترمیمی قانون، این آر سی پر بحث اسمبلی انتخابات کے سیاسی ہتھکنڈا سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔
اس وقت ملک کی کسی بھی ریاست میں این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنا بی جے پی کی بس کی بات نہیں ہے، کیونکہ انہیں انتخابات میں شکست کا خوف ستانے لگا ہے، انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ آسام میں غیر قانونی طریقے سے رہنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کو این آر سی کے تحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔
لیکن آسام میں این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کی پرزور مخالفت کے بعد بی جے پی کی قیادت والی ریاستی اور مرکزی حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا، آسام میں ہونے والے انتخابات سے پہلے ہی بی جے پی کو احساس ہو چکا ہے کہ این آر سی کو نافذ کرنے کے چکر میں آسام میں اقتدار سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔'