شاملی، اتر پردیش: دراصل سارا معاملہ ریاست اتر پردیش کے ضلع شاملی کی پولیس چوکی چوسانہ علاقے کے گاؤں بلا ماجرہ کا ہے۔ منگل کی صبح 11 بجے پولیس کو اطلاع ملی کہ بلا ماجرہ کے جنگل میں سر کٹی لاش پڑی ہوئی ہے۔ جس کے بعد چوسانا پولیس چوکی انچارج نے موقعۂ واردات پر پہنچ کر اعلیٰ افسران کو اس کی جانکاری دی۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ مقتول فضل الرحمٰن ولد شفیع جن کی عمر تقریباً 58 سال بتائی جا رہی ہے۔ جو کہ اپنے گاؤں بلا ماجرہ کی مسجد میں امام تھے۔ انہیں ان ہی کے بیٹے نے مارکر ہلاک کردیا۔
یہ بھی پڑھیں:
واردات کی اطلاع ملتے ہی مقتول کی فیملی میں کہرام مچ گیا۔ روتے بلکتے فیملی کے لوگ موقعۂ واردات کی طرف دوڑ پڑے۔ اطلاع ملنے کے بعد ایس پی شاملی ابھیشیک، اے ایس پی سنتوش کمار جھنجھنا، تھانہ انچارج دھرمیندر کمار فورینسک ٹیم کے ساتھ موقعۂ واردات پر پہنچ گئے اور تفتیش شروع کر دی۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ مقتول کا نابالغ بیٹا جس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے، جس کا علاج چل رہا تھا اور مقتول اپنے بیٹے کو علاج کے لیے ہاسپٹل لے جانا چاہتے تھے۔ لڑکا اسپتال نہیں جانا چاہتا تھا۔ جس کی وجہ سے بیٹا جنگل میں چھپ گیا۔ مقتول بھی اپنے بیٹے کی تلاش کرتے کرتے جنگل میں آگئے اور دونوں کا آمنا سامنا صداقت ولد شریف کے کھیت میں آم کے باغ کے پاس ہو گیا۔
اس دوران نابالغ بیٹے نے اپنے والد کے اوپر پھاؤڑے سے حملہ کرتے ہوئے والد کے سر کو دھڑ سے الگ کر دیا اور اپنے والد کے کپڑے نکال کر ان کو ان کپڑوں میں لپیٹ کر وہاں سے بھاگ نکلا۔ حالانکہ واردات کے کچھ دیر کے بعد ہی پولیس نے ملزم بیٹے کو جنگل سے پکڑ لیا اور اس کی نشاندہی سے واردات سے تقریباً 500 میٹر کی دوری پر کپڑے میں لپٹا سر بھی برآمد کر لیا۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا اور آگے کی کارروائی شروع کر دی۔