وزیراعلی نے کہا کہ اگر کسی مجبور شخص کے پاس راشن نہ ہو اسے کھانے کے لیے ایک ہزار روپے کی معاشی مدد فراہم کی جائے۔ ایسے لوگوں کے راشن کارڈ بھی بنوائے جائیں، جس سے انہیں باقائدگی سے غلہ اناج ملتا رہے۔ ہر حال میں یہ یقینی بنایا جائے کہ ریاست میں کوئی بھوکا نہ رہے۔
ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم اونیش نے بتایا کہ وزیر اعلی نے سنیچر کو اپنے سرکاری گھر پر منعقدہ ایک اجلاس میں لاک ڈاؤن انتظام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی مجبور شخص کے سنگین طور سے بیمار ہونے کی صورت میں اگر اس کے پاس 'ایوشمان بھارت یوجنا' یا 'مکھیہ منتری جن اروگیہ یوجنا' کا کارڈ نہیں ہے تو اسے فورا مدد کے طور پر دو ہزار روپے دیے جائیں۔ ایسے مجبور شخص کی طبی سہولیات کا پورا انتظام کیا جائے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ کسی مجبور شخص کی موت ہونے پر اس کے خاندان کو آخری رسومات کے لیے پانچ ہزار روپے کی معاشی مدد کی جائے۔
وزیر اعلی نے ہدایت دی ہے کہ ریاست کے سرحدی علاقہ میں کام گاروں کے لیے کھانہ اور پینے کے پانی کا انتظام ہونا چاہیے۔ اسی طرح ریاست کے دیگر ریاستوں کو جانے والے مزدوروں کے لیے بھی کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔ ریاست آنے والے کام گاروں مزدوروں کو قرنطینہ سنٹر لایا جائے۔ وہاں میڈیکل اسکریننگ میں صحت مند پائے گئے کام گاروں کو راشن کٹ مہیا کرائی جائے۔ پھر ہوم قرنطینہ کے لیے بھیجا جائے۔ بیمار لوگوں کے علاج کا انتظام کیا جائے۔ ہوم قرنطینہ کے دوران مزدوروں کو ایک ہزار روپے کا بھتا دیا جائے۔