علیگڑھ: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں نقاب پوش افراد کے ذریعے بندوق کی نوک پر لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس پر قابو پانے کے لیے یونیورسٹی پروکٹوریئل ٹیم کیمپس میں سکیورٹی میں اضافہ کرے گی اور ضرورت پڑھنے پر پولیس کی بھی مدد لے گی۔
واضح رہے 7 جون کو یونیورسٹی قبرستان کے پاس سے گزرنے والی ای رکشا سوار خاتون سے دو نقاب پوش بدمعاشوں نے بندوق کے زور پر تمام زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے تھے جن کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔ چند روز قبل شعبہ جغرافیہ کے سامنے سڑک پر ایک طالب علم سے موٹرسائیکل چھین کر بھاگ گئے اور دو روز قبل سر شاہ سلیمان ہال کے سامنے ایک کشمیری طالب علم سے نامعلوم افراد بندوق کی زور پر موبائل اور لیپ ٹاپ چھین کر فرار ہو گئے۔
ان واقعات کے بعد طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ بنایا کہ جلد سے جلد لوٹ مار پر قابو پایا جائے اور اس میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔ طلباء کی جانب سے یونیورسٹی پراکٹر دفتر کو ایک تحریر دی گئی تھی جس کے تحت تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔
اطلاع کے مطابق ابھی تک کسی بھی لوٹ کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے جب کہ یونیورسٹی میں تقریبا تمام اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرا نصب ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں بندوق کے زور پر لوٹ کی وارداتوں سے متعلق پراکٹر پروفیسر محمد وسیم علی نے بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں لوٹ کے معاملے سامنے آئے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ یونیورسٹی کے تمام گیٹ پر سکیورٹی میں اضافہ کرے گی جس میں کچھ سکیورٹی بغیر لباس کے بھی تعینات رہے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ لوگ کون ہیں جو لوٹ کی واردات انجام دے رہے ہیں۔
پراکٹر نے بتایا کہ یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری رات میں تقریبا دو بجے تک کھلی رہتی ہے، بارہ بجے کے بعد طلبا اپنے رہائشی ہالوں میں جانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے زیادہ تر وارداتیں یونیورسٹی لائبریری کے آس پاس اور شام کے وقت ہی پیش آئی ہیں۔ اس لیے ہماری توجہ لائبریری کے آس پاس زیادہ ہوگی۔ پراکٹر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب ہمیں یہ معلوم چل جائے گا کہ یہ لوٹ کرنے والے کون لوگ ہیں، ان کا تعلق کہا سے ہیں تو ان کو گرفتار کرنے کے لیے اگر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم پولیس کی بھی مدد لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
Woman Robbed at Gunpoint in AMU Campus: اے ایم یو کیمپس میں بندوق کی نوک پر خاتون کے ساتھ لوٹ مار