وادی کشمیر میں امسال ہوئی برفباری سے جہاں مقامی باشندگان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہیں بھارت کی دیگر ریاستوں سے یہاں سیر کرنے آئے سیاح بھی اپنے ہوٹلوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ سرینگر شہر کے کئی مقامات پر سیاحوں کو خود ہی سڑکوں پر سے برف ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا۔
سرینگر شہر کے ڈلگیٹ علاقے میں موجود اترپردیش سے آئے ٹورسٹ انتظامیہ کا انتظار کرنے کے بجائے خود سڑک صاف کرتے ہوئے دکھائی دیے۔
ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے ان ٹورسٹ کا کہنا تھا کہ 'ہم کشمیر گھومنے آئے تھے، اس کے بعد یہاں برفباری ہوئی اور ہم یہیں درماندہ ہو گئے۔ قومی شاہراہ بند ہے اور ہوائی جہاز کی ٹکٹیں دستیاب نہیں یا پھر مہنگی مل رہی ہیں۔ ہم واپس اپنے گھر کو لوٹنا چاہتے ہیں لیکن کوئی طریقہ نہیں ہے۔ پینے کے لیے پانی نہیں ہے اور پانی بھی ٹھنڈا ہے۔ ہم کئی مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔'
سڑکوں سے برف ہٹانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'بہت برفباری ہوئی لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس لئے ہم نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر خود ہی سڑک سے برف ہٹانے کی کوشش کی۔ ابھی بھی گاڑیاں صحیح طریقے سے ان سڑکوں سے نہیں نکل سکتی کیونکہ بہت برف جمع ہے۔'
یہ بھی پڑھیں: کشمیر: موسم میں بہتری، قومی شاہراہ ہنوز بند
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہمیں برف ہٹاتا دیکھ شائد انتظامیہ کا ضمیر جاک جائے۔ یہ علاقہ سرینگر کے لال چوک سے صرف دو کلومیٹر دور ہے لیکن انتظامیہ ابھی تک یہاں نہیں آیا۔'
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 'انتظامیہ کے سامنے ہم نے کئی بار ہمارے مسائل پیش کیے لیکن ابھی تک ہماری سڑکوں کو صاف کرنے کے لیے کسی کو نہیں بھیجا گیا۔ ہم لیفٹیننٹ گورنر سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے شہر کی تمام اندرونی سڑکوں سے برف ہٹانے کے احکامات جاری کریں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی آئے۔'