وفد نے آج صبح پریس کانفرنس میں مقامی اور اکثر قومی و بین الاقوامی صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں کو پریس کانفرنس میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپنے دورے کے اختتام پر بدھ کی صبح وفد نے اپنے تاثرات و مشاہدات کے بارے میں سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بریفنگ دی، تاہم اس پریس کانفرنس میں چُنندہ میڈیا اداروں کو ہی داخلہ دیا گیا اور مقامی و قومی صحافتی اداروں سے منسلک صحافیوں کو نہ تو دعوت دی گئی تھی اور نہ ہی پریس کانفرنس پہنچے صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔
ایک مقامی روزنامے سے وابستہ سینئر صحافی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ اس واقعے سے کشمیر میں صحافت پر قدغن صاف عیاں ہو جاتی ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین سے وابستہ اراکین کا کشمیر کی صورتحال کے متعلق جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے بات چیت بھی ناگزیر تھی تاکہ صحافیوں کو انکے مشاہدات کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکے اور عوامی نمائندے ہونے کی حیثیت سے صحافیوں کو ان سے سوالات کرنے کا بھی حق حاصل تھا۔
تاہم انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وفد کا دورہ کشمیر پر اسرار معلوم ہوتا ہے۔
دورے کے دوران 23 افراد پر مشتمل وفد نے کشمیر کی انتظامیہ کے علاوہ مختلف غیر سرکاری و سماجی تنظیموں، اور پنچوں اور سرپنچوں کے وفد سے ملا اور وادی کی صورتحال کی معلومات حاصل کیں۔
وفد نے ڈل جھیل کی سیر بھی کی، بدھ کی صبح صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ 'دہشت گردی صرف بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا'۔
ان نے کہا کہ کہ کشمیری عوام امن چاہتی ہے، جنگ اور لڑائی نہیں۔
کشمیر کے دورے کے حوالے سے انکے موقف پر وفد کا کہنا تھا کہ وہ 9 الگ الگ تنظیموں سے منسلک ہیں، اس لیے وہ اپنی رپورٹ اپنے سربراہوں کے سامنے پیش کریں گے جس کے بعد ہی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے گا۔