جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے مقصد سے متحدہ عرب امارات میں مقیم المایا گروپ، ایم اے ٹی یو انویسٹمنٹ ایل ایل سی، جی ایل ایمپلائمنٹ بروکریچ ایل ایل سی اور نون کے ساتھ کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔ LG Manoj Sinha Signs MoU with Dubai Investment Companies
دبئی میں سرمایہ کاروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر میں کاروباری سرگرمیوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 'متحدہ عرب امارات کے بڑے کاروباری گروپوں نے جموں اور کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور ایک نئی اور جامع شراکت داری کا آغاز کیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ دونوں ممالک 21 ویں صدی میں ' عالمی شراکت دار' بن سکتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے سفر میں یہ وہ وقت ہے جہاں مواقع بہت زیادہ ہیں'۔ LG Manoj Sinha In Dubai
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر میں نوجوان آبادی اور ڈیموگرافک فائدے کے علاوہ اب ایک سادہ اور سازگار ماحول بھی ہے، جو کاروبار کے پھلنے پھولنے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 'ہم نئی راہیں، نئی پالیسیاں وضع کر رہے ہیں، ہم بنیادی ڈھانچہ تشکیل دے رہیں اور جموں و کشمیر کی کاروباری صلاحیت کو آن لاک کر رہے ہیں تاکہ وبائی مرض کے بعد کی دنیا کے لیے یہاں کے کاروباری نظام کو مضبوط کیا جاسکے'۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر صنعتوں کو جوڑنے، آسانی سے دستیاب وافر مسائل کے ساتھ تعاون کرنے کا موقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔گزشتہ 28 مہینوں میں سست پڑی کاروباری سرگرمیوں سے جموں و کشمیر کی سرزمین اب مواقع اور سرمایہ کاری کی سرزمین میں بدل گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ شفاف پالیسیوں اور کاروبار کرنے میں آسانی فراہم کرنے کی وجہ سے حکومت 45ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کرنے اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اضافی 18 ہزار 300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر اپنی ترقی کے عروج پر ہے۔ جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کا بہترین وقت 'اب' ہے۔ میں نے جموں و کشمیر کی معاشی ترقی کے لیے ہدف مقرر کیا ہے۔ تاریخ کے تہہ میں نظر آنے والی جموں و کشمیر کی کبھی نہ بوڑھی ہونے والی ثقافت اور تقریبا تمام بڑے مذاہب کی باہمی رواداری کے گواہ کے طور پر جموں و کشمیر نے ملک کے لیے ایک جامع ثقافی اور ماحولیاتی نظام کو تشکیل دیا ہے'۔
انہوں نے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، حکومت روایتی بنیادی شعبوں اور نئے دور کی ٹیکنالوجی سے چلنے والے شعبوں کے لیے ایک پائیدار، متوازن، ترقی پسند اور مسابقتی کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ہر قدم پر پیش پیش رہے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مضبوط تاریخی تعلقات وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں سے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔اس کو آگے بڑھاتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت مختلف دیگر شعبوں میں تعاون کے ساتھ کام کر رہی ہے۔دونوں ممالک کے لوگوں کے مشترکہ مفادات اور ترقی کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے قیام میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی ادارے، خلائی ٹیکنالوجی، صحت اور باغبانی کے شعبے میں مل کر کام کر رہے ہیں۔'
دبئی کی بندرگاہوں کی بڑی کمپنی ڈی پی ورلڈ جموں اور کشمیر میں ایک انلینڈ بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات کی جانب سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سرمایہ کاری کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈی پی ورلڈ کے نمائندے جلد ہی انلینڈ بندرگاہ کے لیے مختص 250 ایکڑ جگہ کا دورہ کریں گے۔ پراجیکٹس کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔ DP World is planning to build an inland port in Jammu and Kashmir
قابل ذکر بات یہ ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر دبئی کے اپنے دورے کے دوران گلف مارکیٹ میں مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کے علاوہ جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری لانے کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں سے ملاقات بھی کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: دبئی جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار ہے: پیوش گوئل