سرینگر: رواں مہینے کی 22 سے 24 تاریخ تک ہونے والی جی 20 میٹنگ کو اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں منعقد ہونے والے سب سے بڑے بین الاقوامی اجلاس میں سے ایک کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔ ڈل جھیل کے کنارے، شیر کشمیر۔ انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) کے آس پاس سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ "یہ ابھی معلوم نہیں ہے کہ کیا انڈونیشیا، جی 20 کے سابق صدر اور ٹرائیکا کے رکن، سرینگر میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
افسر کے مطابق چین اور ترکی سرینگر میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت نہیں کرے گا۔غور طلب ہے کہ ترکی نے گزشتہ برسوں میں کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بھارت پر تنقید کی تھی، جبکہ چین کے بارے میں خیال کیا جارہا ہیکہ قریبی دوست پاکستان کے ساتھ کھڑا رہنا چاہتا ہے۔مہمان ممالک کی نمائندگی نئی دہلی میں ان کے سفارت خانوں میں کرنے کا امکان ہے۔ میکسیکو اور سعودی عرب ممکنہ طور پر اس گروپ میں شامل ہیں۔
قبل ذکر ہے کہ جی 20 ایونٹس میزبان ملک کے ذریعہ منتخب کردہ کسی بھی مقام پر منعقد کیے جاسکتے ہیں، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے، نئی دہلی میں تقریب منعقد کرنے کا پورا حق ہے۔ افسر کا کہنا تھا کہ رواں مہینے کی 22 اور 23 کو ایس کے آئی سی سی مرکزی تقریب کی میزبانی کرے گا۔ جی 20 کے رکن ممالک کے 100 سے زائد وفد اور مدعو مہمانوں کی آمد متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کے لیے کانفرنس سینٹر کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔ اس تقریب کی کامیابی کو یقینی بنانے اور جموں و کشمیر کی ثقافت، سیاحت، اور فن کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔"
مزید پڑھیں:G20 Summit In Kashmir جی ٹوئنٹی اجلاس کے پیش نظر سرینگر فوجی چھاونی میں تبدیل
دریں اثنا، کانفرنس اور ترقیاتی پروجیکٹس کو عام کرنے کے لیے جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا اشتہاری مہم شروع کی گئی ہے۔ متعدد محکمے، خاص طور پر اسکولوں میں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران پورے جموں و کشمیر میں جی 20 سے متعلق تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی نے حال ہی میں یوتھ 20 کے اجتماع کی بھی میزبانی کی تھی۔