اس موقع پر سماجی کارکنان کے علاوہ مجاہد آزادی و مہاتماگاندھی کے ساتھی ایچ ایس دورے سوامی اور جواہرلال نہرو یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نے بنگلور میں واقع ’لنگایت رودرہ بھومی" پہونچکر گوری لنکیش کی سمادھی پر خراج عقیدت پیش کی۔
گوری لنکیش کی بہن کویتا لنکیش نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گوری کی آواز ابھی بھی زندہ ہے اور صحافیوں کو بے خوف ہوکر ذمہ داری نبھانے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے رویش کمار کو "گوری لنکیش" ایوارڈ دئے جانے کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا.
ایچ. ایس دورے سوامی نے بتایا کہ عوام الناس کو بلاتفریق مذہب و ملت متحد ہوکر فسطائی طاقتوں کے خلاف لڑنا چاہئے جبکہ اسی عمل سے ہمارے ملک میں جمہوریت اور آئین کی حفاظت ممکن ہے۔
انہوں نے سناتھن سنستھا کو دہشت گرد بتاتے ہوئے اسے گوری لنکیش، کلبرگی، دابھولکر وغیرہ کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا۔
معروف سماجی کارکن کے ایل اشوک نے کہا کہ گوری لنکیش ٹرست کی جانب سے "نیائے پتھ" (راہ انصاف) نامی میگزین اور "نانو گوری" (میں گوری ہوں) نامی آن لائن نیوز پورٹل شروع کیا ہے۔
ٹرسٹ کی جانب سے ہر سال ایک بے باک صحافی کو "گوری لنکیش ایوارڈ" دینے کا اعلان کیا گیا جبکہ انعامی رقم ایک لاکھ روپئے ہوگی اور اس سال یہ ایوارڈ معروف صحافی رویش کمار کو دیا جائے گا۔
ٹرسٹ کی جانب سے تین افراد (سدھارتھ وردراجن، رحمت اور تیستاستیوال) پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو ہر سال ایوارڈ کےلیے صحافی کا انتخاب کریگی۔