عالمی وبا کورونا وائرس کے دور میں اردو کے مشہور افسانہ نگار شوکت حیات کے گزرنے کے بعد عظیم آباد میں پہلی بار ان کی حیات و خدمات کے حوالے سے ایک قومی سمینار منعقد ہوا ،جس کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر شکیل احمد خان نے کہا کہ شوکت حیات آنے والے دور کے پُر آشوب حالات اور خطروں سے نہ صرف باخبر تھے بلکہ اپنے افسانوں کے ذریعہ ہمیں باخبر بھی کرتے تھے۔
Conducting a seminar on literary services of Shaukat Hayat in Patna
انہوں نے مزید کہا کہ بڑا لکھنے والا وہی ہوتا ہے جو اپنے زمانے کے مسائل کے ساتھ ساتھ آنے والے مسئلوں پر بھی نظر رکھے، ممتاز ناول نگار عبد الصمد نے اپنی پانچ دہائیوں کی رفاقت کے نشیب و فراز پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ ان کی نسل میں ویسا ہنرمند کوئی دوسرا نہیں تھا۔
معروف افسانہ نگار مشتاق احمد نوری نے اپنے دیرینہ تعلقات کی تفصیل واضح کرتے ہوئے کہا کہ شوکت حیات چند لمحوں میں پتھر سے موم بن جاتے تھے، یہ تخلیقی فنکار کی ایسی انفرادیت ہے جس کے بغیر وہ شاہکار نہیں لکھ سکتا۔
خورشید اکبر نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کے بعد انہیں شوکت حیات کا اسلوب ہی اردو افسانے کا سب سے موزوں اسلوب معلوم ہوتا ہے، اسلم جاوداں نے کہا کہ شوکت حیات جب تک باحیات رہے بہت شان و شوکت سے رہے، یہی ان کی بڑی شناخت تھی، وہ اوپر سے تندخو مگر اندر سے نرم خو تھے۔ بعض پروگراموں میں وہ اپنے مقام کے تعین اور اپنا وجود منوانے کے لئے بے باکی سے بولتے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ ہم عصر افسانہ نگار یا ادب کی دنیا نے ان کی ٹھیک سے قدردانی نہیں کی اور نہ ہی ان کے مقام کا صحیح تعین کیا۔
پروگرام کے آرگنائزر پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا کہ شوکت حیات کو اپنی ناقدری کا بہت شدت کے ساتھ احساس تھا اور اس کے سبب وہ ہمیشہ مبتلائے غم رہے، ان کے ہم عصروں نے اور ان کے دوسرے چاہنے والوں نے کبھی بھی ان کے مزاج اور ذوق کے مطابق ادبی ماحول سازی نہیں کی،اور نہ ہی کسی ادارے نے سنجیدگی سے ان پر کوئی مذاکرہ رکھا، ان کی کتابیں وقت پر شائع نہیں ہو سکیں، بہار کے سرکاری اداروں نے بھی ان پر التفات کی نگاہ نہیں ڈالی. انہیں وجوہات کی بنا پر بزم صدف انٹرنیشنل نے ان کی حیات و خدمات کے حوالے سے یہ قومی سیمینار منعقد کیا ہے۔
اس موقع پر اقبال حسن آزاد کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالہ ثالث کے شوکت حیات نمبر کا خاص طور سے اس سمینار میں اجرا بھی کیا گیا. سمینار کی نظامت ڈاکٹر افشاں بانو نے کی۔