گیا: ریاست بہار کا ضلع گیا ادب اور ثقافت کا گہوارہ ہے۔ یہاں بڑے نامور نقاد، فکشن رائٹر، شاعر اور صحافیوں کا مسکن ہے۔ اردو ادب سے وابستہ چند ایسی شخصیات گزری ہیں جن کی شہرت اور مقبولیت بر صغیر کے علاوہ ہر اس ملک میں رہی جہاں ادبی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ ای ٹی وی بھارت اردو کے نمائندے نے ضلع گیا کے معروف ترقی پسند نقاد، افسانہ نگار، صحافی اور ملک کی آزادی کے بعد کے اہم ادبی جریدے ' آہنگ ' کے مدیر کلام حیدری مرحوم کی ادبی خدمات کے ساتھ آج انہیں فراموش کرنے کی وجہ دریافت کرنے کیلئے ان کے دوستوں اور شاگردوں سے خصوصی گفتگو کی۔ Bihar's leading progressive critic Kalam Hydari
کلام حیدری کی شخصیت پر ان کے ایک دوست اور معروف شاعر وادیب بدنام نظر کہتے ہیں کہ اگر افسانہ نگاری کا جائزہ لیا جائے تو بر صغیر کے اس وقت کے وہ تمام افسانہ نگار جو ان کے ہمعصر تھے، ان سے ان کا تقابلی مطالعہ اور موازنہ کیا جاسکتا ہے، لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنے اچھے لوگوں کو اکثر فراموش کرجاتے ہیں اور ان میں کلام حیدری بھی شامل ہیں۔ جب کہ وہ بحیثیت انسان بھی ایک بہت عمدہ آدمی تھے، وہ اپنے دوستوں شاگردوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔
بدنام نظر مزید بتاتے ہیں کہ چونکہ وہ انکے دوستوں میں تھے، اس لیے وہ قریب سے انہیں جانتے تھے۔ ضلع گیا کا کوئی ایسا ادیب اور شاعر نہیں ہوگا جن پر ان کا احسان نہ ہو۔ انہوں نے اپنے ایک ذاتی معاملے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اختلاف کے باوجود اپنوں کو وہ نہیں بھولتے تھے۔ گیا ضلع میں ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بدنام نظر کہتے ہیں کہ جب تک کلام صاحب باحیات تھے تب تک گیا ضلع میں ادب زندہ تھا اور ہندوستان کا ایسا کوئی ادیب وشاعر نہیں ہے جو ان کے یہاں نہیں آیا۔ ان کا قائم کردہ ایک بڑا ادارہ " کلچرل اکیڈمی " جواب ختم ہوچکا ہے، تاہم ان کے وقت میں نہ صرف ادب کے طفل مکتب کا درسگاہ تھا بلکہ بڑے شاعروں اور ادیبوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سنوارنے کا بھی ذریعہ تھا، یہاں کلچرل اکیڈمی میں ایک سے بڑھ کر ایک ادیب و شاعر کی پیش کش ہوئی گویاکہ کہاجاسکتا ہے کہ کلچرل اکیڈمی جیسا ادارہ دوبارہ نہیں ہوا ۔
کلام حیدری کے عزیز خاص میں سے ایک اور معروف ادیب،مصنف،صحافی اور افسانہ نگار سید احمد قادری کہتے ہیں کہ کلام حیدری کی شناخت ایک کامیاب افسانہ نگار اور ایک بے باک صحافی کی حیثیت سے ہے، اور ان دونوں حیثیتوں سے کلام حیدری نے اردو افسانوں کے فروغ میں نمایا ں رول ادا کیا ہے۔ اس میں بحث کی گنجائش نہیں ہے کہ کلام حید ری بنیادی طور پرایک فنکار تھے اور انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغازاپنے افسانہ’بھابھی‘ سے کیا تھا، جو1964میں کلکتہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’جدید اردو ‘کے ایک شمارے میں چھپا تھا۔انہیں اپنی افسانہ نگاری پر شروع سے اعتمادو بھروسہ تھا۔انکا پہلا افسانوی مجموعہ’ بے نام گلیاں ' شائع ہوا ۔اسکے علاوہ یکے بعد دیگرے چار افسانوی مجموعہ منظر عام پر آیا ۔
سید احمد قادری کا ماننا ہے کہ یہ المیہ ضرور ہے کہ ادبی برادری اور وہ ادارے جو اردو ادب سے وابستہ ہیں خواہ وہ حکومتی یا غیر حکومتی ہوں انہوں نے کلام حیدری کے افسانوں،انکی ادبی خدمات پر اتنی توجہ نہیں دی جسکے وہ مستحق تھے، ہاں گزشتہ کچھ برسوں سے یہ ضرور ہواکہ بہار حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ' اردو ڈائرکٹوریٹ ' کلام حیدری کی یوم پیدائش کے موقع پر پٹنہ میں ایک پروگرام کا اہتمام کرتا ہے، جبکہ انکے ایک خاص شاگرد اوراین سی پی یوایل کے سابق سربراہ پروفیسر ارتضی کریم نے کلام حیدری پر کئی مقالے لکھوائے، اورانہوں نے خود کئی کتابوں کو مرتب کیا ہے ، تاہم اسکے علاوہ کوئی بڑا کام نہیں ہوا ہے اور یہ کہنا بجا نہیں ہوگا انہیں فراموش کیا گیا۔
مختصر تعارف
کلام حیدری کا نام محمد کلام الحق اور تخلص کلام حیدری تھا،انکے والد محمد انعام الحق ایک پولس آفسر تھے۔مونگیر کے موضع رانکڑ میں 2اپریل1930کو اپنے نانہال میں پیدا ہوے،ابتدائی تعلیم کے بعد میٹرک کا امتحان پٹنہ مسلم ہائی اسکول سے 1945میں پاس کیا۔ اس سے قبل 1942میں وہ رام موہن رائے سیمینری کے اسٹوڈنٹ رہے اور تحریک آزادی کا حصہ بنے ، تحریک آزادی کے تعلق سے انہوں نے اپنی کتاب میں ذکر بھی کیا ہے ، انکی شادی گیا کے ایک معروف گھرانے میں ہوئی، سید احمد قادری بتاتے ہیں انکے کل چار افسانوی مجموعے شائع ہوئے، جبکہ اسکے علاوہ کئی اور کتابوں کے وہ مصنف ہیں، سنہ 1994میں انہوں نے گیا میں آخری سانس لی ،انکی ایک صاحبزادی نگارینہ حیدری ہیں جو نوئیڈا میں مقیم ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کلام حیدری مرحوم کی گیا سے جڑی ادبی یادیں ختم ہوچکی ہیں، جس میں کلچرل اکیڈمی، انکے ذریعے نکالے جانے والے معروف رسالے اور انکی ایک بڑی ذاتی لائبریری بھی بند ہوچکی ہے، سنہ 2020میں جب وہائٹ ہاوس جگجیون روڈ پر واقع انکی کوٹھی ' رینا ہاوس ' فروخت ہوا تو وہاں سے سینکڑوں نایاب کتابیں بھی نکلیں جس میں کتابوں کا ایک بڑا حصہ خدابخش لائبریری کو حوالے کیا گیا جبکہ کلام حیدری نے اپنی حیات میں بھی کچھ کتابیں خدابخش لائبریری اور سید احمد قادری کو تحفہ میں پیش کردی تھی ۔ کلام حیدری کی یادوں کے طور پر انکی تصانیف اور انکی کچھ تصاویر جس میں ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈدت جواہر لال نہرو اور دیگر بڑی شخصیات کے ساتھ جو تصویر ہیں وہ آج محفوظ ہیں ۔واضح ہوکہ کلام حیدری ان ادیبوں میں سرفہرست ہیں جنہوں نے تحریک آزادی میں زمانہ طالب علمی میں ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔
مزید پڑھیں:گیا یتیم خانہ گنگا جمنی تہذیب کا مرکز