آسام کے موری گاؤں ضلع میں انسانی اعضا کی غیرقانونی اسمگلنگ اور فروخت کا ایک بڑا ریکٹ بے نقاب ہوا ہے۔ غیرقانونی طور پر گردوں کی خرید کے ریکٹ میں ملوث 3 افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔
پولیس نے گاؤں کے محافظ کی مدد سے گوہاٹی کی رہنے والی خاتون لی لی مائی بورو، اس کے بیٹے اور ایک ساتھی رامین میدھی کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے ان تینوں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ گاؤں کے ایک غریب شخص سے کاغذات پر دستخط حاصل کررہے تھے۔ یہ غریب شخص انہیں پیسوں کے بدلے میں اپنی کڈنی فروخت کر رہا تھا۔
اطلاعات کے مطابق بورو کے ساتھی رامین میدھی نے جنوبی دھرمتل میں 2020 میں لاک ڈاون کی وجہ سے لاچاروالد کو 5 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کرتے ہوئے کڈنی فروخت کرنے کے لیے راغب کیا تھا۔ اس شخص کے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے جس کے علاج کے لیے اسے رقم کی سخت ضرورت ہے۔
بعد ازاں لی لی مائی بورو، نیتو داس اور رامین میدھی نے اس غریب شخص کو کولکاتا کے رابندر ناتھ ٹیگور ہسپتال لے گئے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اس شخص کا گردہ نکال لیا اور اسے صرف دیڑھ لاکھ روپے دیکر واپس بھیج دیا۔
معاہدہ کے مطابق پیسے نہ دینے کے بعد متاثرہ شخص نے انسانی اعضا کی اسمگلنگ کرنے والے ریکٹ کا پردہ فاش کیا۔ اس کے بعد یہ بھی انکشاف ہوا کہ گاؤں کے تقریباً 20 سے زیادہ افراد پہلے سے اس ریکٹ کا شکار ہوچکے تھے جبکہ دیگر 5 پانچ افراد کولکاتا کے اسی اسپتال میں اپنے اعضا دینے کےلیے تیار ہیں۔ پویس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کرلیا اور اس سلسلہ میں مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قرض سے پریشان کاشتکار نے کڈنی نیلام کرنے کا فیصلہ کیا
گاؤں میں بہت غربت پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں کے لوگ اتنے غریب اور قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنے جسم کے اعضا بیچنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آرہا ہے۔ وسطی آسام کے ناگون ضلع میں ہجگاؤں ویلیج کے رہنے والے غریب دیہاتیوں نے امیر خاندان کے مریضوں کو اپنا گردہ بیچنے کا اعتراف کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ 5 سال کے دوران گاؤں کے متعدد لوگوں نے اپنے گردے فروخت کئے ہیں۔