اجلاس عام میں مہمانان کرام کے علاوہ مقامی سماجی کارکن اور دانشوران کا بھی خطاب ہوگا۔ پروگرام صبح گیارہ بجے شروع ہوگا جو شام چار بجے تک چلے گا۔
مذکورہ باتیں 'ہم ہیں بھارت' کے کوآرڈینیٹر زاہد انور و دیپک داس نے ہوٹل ایور گرین میں منعقد ایک پریس کانفرنس منعقد کر صحافیوں کو بتایا۔ دیپک داس نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف عوام لگاتار سڑکوں پر اتر رہی ہے، احتجاج و مظاہرے ہو رہے ہیں۔
مرد سے لیکر خواتین اور بچوں سے لیکر بوڑھے، عام عوام سے لیکر خواص عوام سبھی جمہوریت کی بقا اور اس کی حفاظت کے لئے مسلسل دباؤ بنا رہی ہے مگر حکومت اب تک اس پر غور و خوض نہیں کر رہی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروگرام کے کوآرڈینیٹر زاہد انور نے کہا کہ تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ہم مرکزی حکومت کے غلط منصوبوں کے خلاف مضبوطی سے متحد ہو کر کھڑے ہوں چونکہ اس این آر سی اور سی اے اے سے صرف مسلم ہی نہیں بلکہ ہمارے ہندو بھائی بھی پریشان ہوں گے۔ یہ مکمل طور پر عوام مخالف قانون ہے جسے ہر حال میں حکومت کو واپس لینا ہوگا۔