ساتویں محرم کے موقع پر نوابی شہر لکھنؤ کے تاریخی امام باڑے میں خاموشی کی چادر پڑی ہے۔ کووڈ 19 کی وجہ سے حکومت نے جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی، جس وجہ سے امام قاسم کا 'مہندی جلوس' نہیں نکالا گیا۔
کووڈ 19: لکھنؤ کا تاریخی 'مہندی جلوس' نہیں نکالا گیا کورونا وائرس ایسی مہلک وبا ہے، جو سماج کے ہر شعبہ کو متاثر کر رہا ہے۔ سماجی، سیاسی، مذہبی، تمام طرح کی تقریبات پر یہ وبا اثر انداز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امسال محرم الحرام میں عزاداری، جلوس، ماتم اور تعزیہ داری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ای ٹی وی بھارت سے بات چیت کے دوران اعجاز حسین نے بتایا کہ آج ساتویں محرم ہے، جس میں بڑا امام باڑہ سے حضرت قاسم علیہ السلام کا تاریخی 'مہندی جلوس' نکلتا تھا لیکن اس بار ہر سمت خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دل غمگین ہے، ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ہمیں ایسا بھی دن دیکھنے کو ملے گا؟ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ وبائی امراض سے نجات ملے اور آئندہ سال بہتر طریقے سے عزاداری کر سکیں۔ ایک طالب علم عادل حسین نے بتایا کہ یہ منظر دیکھ کر دل بے چین ہے۔ پچھلے سال آج کے دن یہاں پر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور اب دیکھیں پورے امام بارگاہ میں صرف چند افراد ہی نظر آ رہے ہیں، جو یہاں کے ملازمین ہیں۔ اسی طرح دوسرے عقیدت مند نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ہم لوگ اپنا غم بھی نہیں دکھا سکتے۔ آج امام بارگاہ میں نہ کوئی آرہا ہے اور نہ ہی یہاں سے کوئی جا رہا ہے بلکہ خاموشی طاری ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فیصلہ منصفانہ نہیں ہے۔ اگر حکومت ہمیں عزاداری کی اجازت دیتی تو "ہم لوگ کووڈ 19 کی گائیڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے عزاداری، جلوس اور تعزیہ داری کرتے لیکن امام بارگاہ کے باہر پولیس فورس ایسے پہرا دے رہی ہے، جیسے یزید نے دریائے فرات پر پہرا لگوایا تھا۔" لکھنؤ کا محرم الحرام قدر مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہاں دو ماہ آٹھ دن کا محرم ہوتا ہے لیکن کورونا کی وجہ سے اجتماعی طور پر عزاداری، جلوس، ماتم، مجالس اور تعزیہ داری کی اجازت نہیں دی گئی۔