کم فنڈنگ نے اسٹارٹ اپ کو اپنے کمرشیل ڈیولپمنٹ اور ایکٹیویٹیز کو آگے بڑھانے کو فی الحال ٹالنے پر مجبور کردیا ہے۔ ان کے پاس نہ تو کوئی ڈیمانڈ ہے اورنہ ہی سپلائی۔جس سے اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ریاست بھوپال میں تقریبا چار ہزار اسٹارٹ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 32 انکیوبیشن سینٹر ہیں ان میں سے زیادہ تر اسٹارٹ اپ میں کوئی کام نہیں ملنے کی وجہ سے لوگوں نے اپنا کام بند کر دیا ہے یا تو کام بدل دیا ہے۔
ای ٹی وی بھارت نے کورونا وبا میں دارالحکومت بھوپال کے اسٹارٹ اپ کے حالات کا جائزہ لیا تو پایا کہ بھوپال میں اسٹارٹ اپ کے حالات خستہ ہیں۔ بھوپال کے انکوبیشن سینٹر میں چلنے والے اسٹارٹ اپ کے چیمبر خالی پڑے ہیں۔کچھ ہی لوگوں کو کام مل پایا ہے۔
ٹرانسپورٹ اینڈ لوجسٹک میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپ بتاتے ہیں کہ 'کورونا کی وجہ سے کام پر بہت اثر پڑا ہے اسکول کالج اور گاڑیاں بند ہونے کے وجہ سے ہمیں اپنا کام بدلنا پڑا ہے۔ انشورنس فیلڈ میں کام کرنے والوں کے مطابق کورونا کی وجہ سے کام کرنے والوں کی بھی کمی ہے لوگ کم ہونے کی وجہ سے فری منٹ بند ہوگئے ہیں۔ الیکٹریکل سائیکل اور کسٹمائز بائی سائیکل کے فیلڈ میں کام کرنے والے اسٹار ٹ اپ میں کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
صوبے میں اسٹارٹ اپ پالیسی نافذ تو کردی گئی ہے، لیکن اس پر صحیح طریقے سے کام نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے بھی اس میں صحیح طریقے سے مدد نہیں کی۔ سال 2016 میں انکیوبیشن اینڈ اسٹارٹ اپ پالیسی لائی گئی اور موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے ذریعے 100کروڑ روپے کے فنڈ کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس کے تین سال بعد دوسری اسٹارٹ اپ پالیسی نافذ کی گئی جس کے بعد وہ بھوپال، اندور، گوالیار اور جبل پور کو اسٹیٹ آف آرٹ انکیوبیٹر بناتے ہوئے نئے رولز میں ترمیم کیا گیا ان سب کے باوجود بھی اسٹارٹ اپ کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہے۔