ETV Bharat / city

'کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں' - بنگلورو شہر کے دار السلام ہال میں

ممتاز سماجی تنظیم ایس ڈی پی آئی نے آج یہاں ایک اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کا انعقاد کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ' کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں'، ان کے حقوق کے لئے ہم سب آگے بڑھیں گے اور ان کی حمایت میں آواز اٹھائینگے۔

ایس ڈی پی آئی' کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں'
author img

By

Published : Nov 1, 2019, 8:04 PM IST

ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو شہر کے دار السلام ہال میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ایس ڈی پی آئی کی جانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیش آنے والے حالات اور حکومت ہند کی جانب سے کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کو لیکر ایک اجلاس کا اہتمام کیاگیا۔

اس اجلاس کے مقصد کو یہ کہتے ہوئے اظہار کیا گیا کہ' کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں'، ان کے حقوق کے لئے ہم سب آگے بڑھیں گے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائینگے۔

اس موقع پر سامعین سے خطاب کرتے ہوئے راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایس ڈی پی آئی کے قومی سیکرٹری سیتارام کھوئی وال نے کہا کہ 'بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر تمام تر قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا ہے۔ جس کا کسی بھی اعتبار سے جواز نہیں دیا جاسکتا۔

سیتارام کھوئی وال نے بتایا کہ پچھلے چند دنوں قبل ایس ڈی پی آئی پارٹی کے ایک وفد نے کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہےکہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے، یہ ایک بھونڈا مزاق کے سوا کچھ نہیں، سیتارام نے بتایا کہ انہوں نے کشمیر کے دورے پر کشمیریوں سے بات کی جس سے یہ پتہ چلاکہ حکومت نے جے آرمی پولیس و دیگر فورسز تعینات کر خوف کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔

ایس ڈی پی آئی' کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں'

اس موقع پر پاپولر فرنٹ کے سیکرٹری انیس احمد نے کہا کہ فلسطین کے ویسٹ بینک والی پالیسی کوکشمیر میں نافذ کیا جارہا ہے۔

انیس احمد نے کہا کہ سَنگھ پریوار کی قیادت والی بی جے پی حکومت جو منو اسمرتی کو اپنا دستور بنانے کی خواہاں ہے اس سے آرٹیکل 370 کا منسوخ کیا جانا کوئی تعجب نہیں۔


انیس نے کہا کہ ملک کے ہر باشندے کو آج چاہیے کہ' کشمیر اور کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کریں، ملک کا ہر باشندہ اٹھے اور انصاف کے لئے کھڑا ہو، تبھی ملک سے فستائیت کا خاتمہ ممکن ہے'۔

انیس احمد نے کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تعلق سے کانگریس پارٹی کے سینئر رہنماوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں کانگریسی نظریہ کو ریجیکٹ کیا اور بی جے پی حکومت کی تائید کی، انیس نے کہا کہ کانگریسی رہنماؤں کا یہ رویہ ان کے فرضی جمہوریت کو دکھاتاہے۔

ایس ڈی پی آیی کے ریاستی صدر الیاس محمد تھومبے نے کشمیر کے متعلق بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے چند چبھتے ہوئے سوال کئے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کشمیر سے اسپیشل اسٹیٹس کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سلسلے میں صحیح طریقہ کیوں نہیں اپنایا گیا؟ کیا یہ جمہوری اقدار کے خلاف نہیں؟ عالمی سطح کی میڈیا کو کشمیر میں اپنا کام کرنے اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ کشمیر کے سیاستدانوں کو کیوں نظر بند کیا گیا؟ اپوزیشن کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا؟ کشمیری عوام سے اس کے متعلق رائے کیوں نہیں لی گئی؟

مزید پڑھیں: جمعہ کے پیش نظر کشمیر میں بندشیں

الیاس تھومبے نے مزید سوال کیا کہ یورپ کے پارلیمانی ارکان کے ایک رکن کریس ڈیویس کو وفد کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا جب کہ انہوں نے کشمیری عوام سے براہ راست بات کرنے کی پیشکش کی تھی؟ الیاس تھومبے نے کہا کہ حکومت کو ان سوالات کے جوابات دینے ہونگے۔

پروگرام میں معروف سماجی کارکن اور ای سی ایچ آر او کے ریاستی صدر ایڈووکیٹ بالن نے کشمیر کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی فستائیت کا ایک بدترین نمونہ ہے جس کے خلاف مزاحمت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو شہر کے دار السلام ہال میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ایس ڈی پی آئی کی جانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیش آنے والے حالات اور حکومت ہند کی جانب سے کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کو لیکر ایک اجلاس کا اہتمام کیاگیا۔

اس اجلاس کے مقصد کو یہ کہتے ہوئے اظہار کیا گیا کہ' کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں'، ان کے حقوق کے لئے ہم سب آگے بڑھیں گے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائینگے۔

اس موقع پر سامعین سے خطاب کرتے ہوئے راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایس ڈی پی آئی کے قومی سیکرٹری سیتارام کھوئی وال نے کہا کہ 'بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر تمام تر قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا ہے۔ جس کا کسی بھی اعتبار سے جواز نہیں دیا جاسکتا۔

سیتارام کھوئی وال نے بتایا کہ پچھلے چند دنوں قبل ایس ڈی پی آئی پارٹی کے ایک وفد نے کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہےکہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے، یہ ایک بھونڈا مزاق کے سوا کچھ نہیں، سیتارام نے بتایا کہ انہوں نے کشمیر کے دورے پر کشمیریوں سے بات کی جس سے یہ پتہ چلاکہ حکومت نے جے آرمی پولیس و دیگر فورسز تعینات کر خوف کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔

ایس ڈی پی آئی' کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں'

اس موقع پر پاپولر فرنٹ کے سیکرٹری انیس احمد نے کہا کہ فلسطین کے ویسٹ بینک والی پالیسی کوکشمیر میں نافذ کیا جارہا ہے۔

انیس احمد نے کہا کہ سَنگھ پریوار کی قیادت والی بی جے پی حکومت جو منو اسمرتی کو اپنا دستور بنانے کی خواہاں ہے اس سے آرٹیکل 370 کا منسوخ کیا جانا کوئی تعجب نہیں۔


انیس نے کہا کہ ملک کے ہر باشندے کو آج چاہیے کہ' کشمیر اور کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کریں، ملک کا ہر باشندہ اٹھے اور انصاف کے لئے کھڑا ہو، تبھی ملک سے فستائیت کا خاتمہ ممکن ہے'۔

انیس احمد نے کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تعلق سے کانگریس پارٹی کے سینئر رہنماوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں کانگریسی نظریہ کو ریجیکٹ کیا اور بی جے پی حکومت کی تائید کی، انیس نے کہا کہ کانگریسی رہنماؤں کا یہ رویہ ان کے فرضی جمہوریت کو دکھاتاہے۔

ایس ڈی پی آیی کے ریاستی صدر الیاس محمد تھومبے نے کشمیر کے متعلق بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے چند چبھتے ہوئے سوال کئے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کشمیر سے اسپیشل اسٹیٹس کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سلسلے میں صحیح طریقہ کیوں نہیں اپنایا گیا؟ کیا یہ جمہوری اقدار کے خلاف نہیں؟ عالمی سطح کی میڈیا کو کشمیر میں اپنا کام کرنے اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ کشمیر کے سیاستدانوں کو کیوں نظر بند کیا گیا؟ اپوزیشن کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا؟ کشمیری عوام سے اس کے متعلق رائے کیوں نہیں لی گئی؟

مزید پڑھیں: جمعہ کے پیش نظر کشمیر میں بندشیں

الیاس تھومبے نے مزید سوال کیا کہ یورپ کے پارلیمانی ارکان کے ایک رکن کریس ڈیویس کو وفد کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا جب کہ انہوں نے کشمیری عوام سے براہ راست بات کرنے کی پیشکش کی تھی؟ الیاس تھومبے نے کہا کہ حکومت کو ان سوالات کے جوابات دینے ہونگے۔

پروگرام میں معروف سماجی کارکن اور ای سی ایچ آر او کے ریاستی صدر ایڈووکیٹ بالن نے کشمیر کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی فستائیت کا ایک بدترین نمونہ ہے جس کے خلاف مزاحمت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Intro:آرٹیکل 370 منسوخی: ملک ہند عالم بھر میں بدنام ہوا ہے


Body:آرٹیکل 370 منسوخی: ملک ہند عالم بھر میں بدنام ہوا ہے

بی. جے. پی کا 'کشمیری بھی ہمارے ہیں' نعرہ جھوٹا ہے: ایس. ڈی. پی. آئی

بنگلور: آج شہر کے دار السلام ہال میں سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس. ڈی. پی. آئ. پارٹی) کی جانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد والے حالات و حکومت ہند کی جانب سے کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کو لیکر ایک اجلاس کا اہتمام کیا. اس اجلاس کا مقصد کو یہ کہتے ہوئے اظہار کیا کہ کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارا ہے، ان کے حقوق کے لئے ہم سب آگے بڑھینگے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائینگے.

اس موقع پر سامعین سے خطاب کرتے ہوئے راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایس. ڈی. پی. آی پارٹی کے قومی سیکرٹری سیتارام کھوئی وال نے کہا کہ بی. جے. پی حکومت نے جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر تمام تر قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا ہے جس کا کسی بھی اعتبار سے جواز نہیں دیا جاسکتا.

سیتارام کھوئی وال نے بتایا کہ پچھلے چند دنوں قبل ایس. ڈی. پی آئ پارٹی کے ایک وفد نے کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا. انہوں نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے، ایک بھونڈا مزاق کے علاوہ کچھ نہیں. سیتارام نے بتایا کہ انہوں نے کشمیر کے دورے کے دوران کشمیریوں سے بات کی اور یہ پایا کہ حکومت جے آرمی، پولیس و دیگر فورسز کا تعینات کرکے خوف کا ماحول پیدا کر رکھا ہے.

اس موقع پر پاپیولر فرنٹ کے سیکرٹری انیس احمد نے کہا کہ فلسطین کے ویسٹ بینک والی پالیسی کا نفاذ کشمیر میں کیا جارہا ہے. انیس احمد نے کہا کہ سنگھ پریوار کی قیادت والی بی. جے. پی حکومت جو منو اسمریتی کو اپنا دستور بنانے کی خواہران ہے اس سے آرٹیکل 370 کا منسوخ کیا جانا کوئی تعجب نہیں. انیس نے کہا کہ ملک کے ہر باشندے کو آج چاہیے کہ کشمیر اور کشمیریوں سے اکجہتی کا اظہار کریں. انیس احمد نے اپیل کی کہ ملک کا ہر باشندہ اٹھے اور انصاف کے لئے کھڑا ہو، تبھی یہ ممکن ہے کہ ملک سے فستائیت کا خاتمہ ہو.

انیس احمد نے کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے متعلق کانگریس کے سینئر رہنماوں پر سخت تنقید کی کہ انہوں نے اس معاملے میں کانگریس کے نظریہ کو ریجیکٹ کیا اور بی. جے. پی حکومت کی تائید کی. انیس نے کہا کہ کانگریس کے لیڈران کا یہ رویہ ان کے ڈھکوسلے سیکولرزم کو درشاتا ہے.

ایس. ڈی. پی. آی کے ریاستی صدر الیاس محمد تھومبے نے کشمیر کے متعلق بی. جے. پی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے چند چبھتے ہوئے سوال کئے. انہوں نے سوال کیا کہ کشمیر سے اسپیشل سٹیٹس کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سلسلے میں صحیح طریقہ کیوں نہیں اپنایا گیا؟ کیا یہ جمہوری اقدار کے خلاف نہیں؟ عالمی سطح کی میڈیا کو کشمیر میں اپنا کام کرنے اجازت کیوں نہیں دیگئی؟ کشمیر کے سیاستدانوں کو کیوں ہاؤس ارہلیسٹ کیا گیا؟ اپوزیشن کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا؟ کشمیری عوام سے اس کے متعلق رائے کیوں نہیں لی گئی؟

الیاس تھومبے نے مزید سوال کیا کہ یورپ کے پارلیمانی ارکان میں ایک رکن کریس ڈیویس کو وفد کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا جب کہ انہوں نے کشمیری عوام سے براہ راست بات کرنے کی پیشکش کی تھی؟ الیاس تھومبے نے کہا کہ حکومت کو ان سوالات کے جوابات دینے ہونگے.

پروگرام میں معروف سماجی کارکن و ای سی. ایچ. آر. آو کے ریاستی صدر ایڈووکیٹ بالن نے کشمیر کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی فستائیت کا ایک بدترین نمونہ ہے جس کے خلاف مزاحمت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے.

بائیٹس...
1. الیاس محمد تھومبے، صدر، ایس. ڈی. پی. آئ کرناٹکا
2. سیتارام کھوئیوال راجستھان، قومی سیکرٹری، ایس. ڈی. پی. آئ پارٹی
3. نازش مسعودی، کنوینر، کشمیری سوسائٹی بنگلورو

Note...
The video is being uploaded...


Conclusion:
ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.