ممتاز و مقبول شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات پر ریاست اترپردیش کے رامپور میں قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ نربل ورگ سیوا سمیتی کی جانب سے منعقدہ اس سیمنار میں دانشوروں نے ساحر لدھیانوی کی زندگی سے متعلق مختلف گوشوں پر اپنے مقالے کے ذریعہ روشنی ڈالی Program Held on Sahir Ludhianvi in Rampur۔
وہیں شاعرہ ڈاکٹر گلناز صدیقی نے اپنے مقالے میں کہا کہ جو اوصاف و خوبیاں ساحر کو ہم عصر شعراء سے ممتاز کرتی ہیں وہ ان کا شدت درد سے لبریز کلام اور ان کے خیالات کی ندرت ہے۔ انہوں نے عورت ذات کی ہمیشہ عزت کی۔ جس طرح سے عورت ذات پر صدیوں سے ظلم و تشدد ڈھائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور جس طرح سے اس کا استحصال کیا جاتا رہا ہے، ایسے تمام ہی موضوعات کو ساحر نے اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔
مرادآبد سے تشریف لائے حمد و نعت فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد آصف حسین نے ساحر لدھیانوی زندگی سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ 8 مارچ 1921ء میں پیدا ہونے والے ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبد الحئی تھا۔ لدھیانہ میں پیدا والے اس شاعر نے اپنے بچپن اور جوانی میں بہت تلخ زندگی بسر کی تھی۔ اپنی بے توجہی کی وجہ سے گورنمنٹ کالج لدھیانہ اور پھر دیال سنگھ کالج سے بھی نکال دیے گئے۔ کالج کے زمانے سے ہی انہوں نے اپنی شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا Dr. Shakir Hussain Islahi Moradabad۔
اس دوران مرادآباد مسلم ڈگری کالج سے پہنچے ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی صدر شعبۂ اردو نے ساحر سے متعلق اپنا مقالہ 'اردو غزل میں بدلتے سماج کی عکاسی' پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساحر مبلغ تھے نہ مصلحت پسند، مگر ان کے اندر اپنے ماحول کے خلاف بغاوت کا جزبہ موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ ساحر کو پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح ظالم کے سامنے اپنی حق بات کہی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر رضیہ پروین نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساحر کی عظمت پہ مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ ساحر حیات آشنا بھی ہیں اور روح عصر سے آگاہ بھی۔ حیات کی کیفیات اور عصر کی تغیرات، تحولات اور ترجیحات سے مکمل آشنائی کے اشارے ان کے اشعار میں ملتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
- ساحر لدھیانوی : عوام کے دلوں پر راج کرنے والا شاعر
- 'نئی نسل کو ساحر لدھیانوی سے واقف کرانا میرا مقصد'
مہمان خصوصی کے طور پر پینچے عالمی شہرت یافتہ شاعر و ناظم مشاعرہ منصور عثمانی نے بھی ساحر لدھیانوی کی ادبی خدمات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیمنار کی صدرات کا فریضہ معروف مصنف اور ادیب عتیق احمد سالک نے انجام دیا جبکہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر رباب انجم نے انجام دیا۔