روزی کی تلاش میں گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ گھومنے والے اور ڈیرے لگاکر محنت مزدوری کرنے والے خانہ بدوشوں کی صورتحال قابل رحم ہے۔
کورونا وائرس کی وباکے چلتے انھیں گاؤں میں داخلہ منع ہے۔ مگر بھوک انھیں جھونپڑوں میں چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی ہے۔
اورنگ آباد سے چالیس کلو میٹر فاصلے پر واقع یہ پٹن تعلقے کا کھاد گاؤں ہے۔ کھاد گاؤں سے اڈول گاؤں کے درمیان دس کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ کھاد گاؤں سے پانچ کلو میٹر فاصلے پر پہاڑیوں کے دامن میں لب سڑک خیمے لگے نظر آئے۔
گاؤں سے دور ویرانے میں الگ تھلگ خیموں کا جب جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ تیس چالیس افراد پر مشتمل یہ قافلہ پندرہ دن پہلے کھاد گاؤں کے قریب خیمہ زن ہوا۔ یہ لوگ کھیت مزدور ہیں فصلوں کی تیاری پر یہ گاؤں دیہاتوں میں ڈیرے ڈال کر کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی مالش کا تیل بھی فروخت کرتے ہیں۔ لیکن پہلے ہی دن کرفیو کا اعلان ہوجانے سے روزگار ملنا تو دور یہ اپنے ہی خیموں میں قید ہوکر رہ گئے۔
ان خیموں میں نہ لائٹ کا انتظام ہے نہ پانی کی سہولت اورنہ ہی بنیادی سہولت، چند ٹوٹے پھوٹے برتن اور برائے نام اناج نظرآیا۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی ابتر حالت اور بڑوں کی بے بسی صاف نظر آرہی تھی۔
خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے والے ان لوگوں کا کہنا ہیکہ پچھلے تیس برسوں میں ایسی صورتحال کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا، کھاد گاؤں پہنچتے ہی پولیس اہلکاروں نے ان سے متعلق جانکاری حاصل کرلی لیکن بتایا گیا کہ کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔
اب صورتحال یہ ہیکہ نہ ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا ہےاور نہ ہی کوئی کام ہے جس سے کہ وہ اپنا گزارا کرسکیں۔
ایسے میں ان لوگوں کا کہنا ہیکہ کورونا سے پہلے کہیں بھوک مری نہ انھیں مار دے۔