اس تعلق سے مظاہرین نے کہا کہ 'لاک ڈاؤن کے دوران ہم بہت پریشان حال تھے پیسوں کی بہت زیادہ تنگی تھی یہ مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ لائٹ کا میسیج مل گیا جسے دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے۔ جولائٹ بل 500 ہزار روپے کا آتا تھا وہی لائٹ بل اب دو ہزار تین ہزار بھیجا گیا ہے۔ بغیر ریڈنگ کے لائٹ بل بھیجے گئے ہیں۔ ہم اسے کہاں سے بھریں گے؟ ابھی تو ہمارے کاروربار، روزی روٹی ٹھپ ہے دو مہینے سے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں لگا اور اتنا لمبا چوڑا بل بھیج دیا گیا'۔
مقامی باشندہ اسلام چاہتے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے اس بل کو معاف کیا جائے ورنہ ہم احتجاجی مظاہرہ کرتے رہیں گے اور حکومت سے مطالبہ کرتے رہیں گے۔ ہمارے لائٹ بل بھرنے سے راحت دی جائے جس طریقے سے دوسری ریاستوں میں لائٹ بل بھرنے میں کچھ رعایت دی گئی ہے۔
ایک اور مظاہرین نے کہا کہ احمد آباد کے لوگ بھی بہت پریشان حال ہے ہیں اور ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ لائٹ بل بھر سکتے ہیں۔ اگر ہماری آواز حکومت نے نہیں سنی تو ہم اس کے لئے بڑی بڑی تحریک چلائیں گے۔