برطانوی افسر کارمائیکل نے کارتوس میں خنزیر اور گائے کی چربی لگانے کا حکم دیا تھا جسے استعمال کرنے کے وقت کارتوس کو منہ سے کھولنا پڑتا تھا یہ کام بھارتی عوام کے مذہب کے خلاف تھا جو انتہائی ناگوار گزرا۔
بھارتی فوج نے اسکے استعمال سے انکار کر دیا جس پر میرٹھ کے چھاؤنی میں 35 فوجیوں کی وردی کو برسرعام اتروادی گئی اور دس برس قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔
اس واقعہ نے عوام کے اندر بغاوت کا شعلہ بھڑکا دیا جس کے بعد 10 مئی 1857 کی شام کو میرٹھ کے متعدد مقامات پر قتل عام ہوا جس میں فرنگیوں کے کئی اعلی افسران کو مار دیا گیا۔
علاقائی اور باغیوں کے مشترکہ کوششوں سے یہ چنگاری تیزی سے پھیلنے لگی اور لوگ دہلی کی جانب کوچ کرنے لگے دہلی میں کئی انگریز افسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اور لال قلعہ پر جھنڈا لہرا کر بہادر شاہ ظفر کی بادشاہت کا اعلان کردیا گیا۔
اترپردیش کے متعدد اضلاع میں آزادی کی تحریک جاری رہی لیکن اس جدوجہد کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جس کی اہم وجہ یہ تھی کہ اس تحریک میں منظم حکمت عملی اور متحدہ منصوبہ بندی نہیں تھی۔
میرٹھ میں 1857 کی تحریک آزادی کی یادیں آج بھی تازہ ہیں جس کے لیے 10 مئی کو شہر کے بیشتر کالجز، اسکولز اور شہید سمارک پر پروگرام منعقد کیا گیا اور عوام نے 1857 کے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا، ضلع انتظامیہ کی جانب سے جنگ آزادی میں شرکت کرنے والے مجاہدین کی اہل خانہ کو اعزاز سے نوازا گیا۔
جنگ آزادی کے مجاہد امرناتھ گپتا نے بتایا کہ سنہ 1947 کی جنگ میں ہم بھی شامل تھے انگریز نے مجھے مسلسل تلاش کیا، لیکن میں فرار ہوگیا تھا اور چھ ماہ تک فرار رہا جب ملک آزاد ہوگیا اس وقت واپس آیا، انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھارتی عوام میں آزادی کا جوش تھا جس کی بدولت ہمیں آزاد فضا میسر ہوئی ہے۔
انگریزوں کے زمانے میں کالی مندر جسے اب ادھیڈ ناتھ مندر کہا جاتا ہے اسی جگہ سے صوفی سنت آزادی کے لیے عوام کو بر انگیختہ کیا کرتے تھے، جہاں پر شہدا کے قبریں موجود ہیں۔
انہیں شہیدوں کی یاد میں میرٹھ کے جلی کوٹھی علاقے میں شہید اسمارک کی تعمیر کی گئی ہے جہاں پر ان سے وابستہ نشانات آج بھی موجود ہیں۔
ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر پربھات رائے نے تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی حکومت کی مخالفت کرنے والے 85 بھارتی فوجیوں میں سے 53 مسلم شامل تھے، لیکن بدقسمتی سے آج انہیں فراموش کیا جارہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہادر شاہ ظفر بھی 1857 کے ہیرو تھے جن کا آج کوئی نام لینے کو تیار نہیں ہے جو تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔