الہٰ آباد ہائی کورٹ نے تبدیلی مذہب کی روک تھام کے آرڈینینس کے تحت درج ایک کیس میں ہریدوار کے ندیم کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے نیز یہ بھی ہدایت کی کہ کسی قسم کی اذیت ناک کارروائی نہ کی جائے۔
جسٹس پنکج نقوی اور جسٹس وویک اگروال کی بینچ نے یہ حکم دیا ہے۔ عدالت نے نئے آرڈیننس کی آئینی حیثیت کے معاملے کو چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا ہے۔ چیف جسٹس اس آرڈیننس کے خلاف دائر عوامی مفاد کی عرضی پر سماعت کر رہے ہیں۔
مظفر نگر میں ندیم کے خلاف دھمکی اور مجرمانہ سازش کا مقدمہ نئے آرڈیننس کی دفعہ تین اور پانچ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مظفر نگر کے اکشے کمار نے ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ ایف آئی آر میں اکشے نے ندیم پر الزام عائد کیا ہے کہ 'ندیم نے اپنی بیوی سے مذہب تبدیل کرنے کی نیت سے ناجائز تعلقات قائم کیے اور اس نے شادی کرنے کے بہانے اس پر زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالا۔
وہیں ندیم نے بتایا کہ وہ ایک غریب مزدور ہے، کچھ پیسوں کے لین دین کی وجہ سے اسے کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ ندیم نے ایک درخواست کے ذریعے ایف آئی آر اور نئے آرڈیننس کو بھی چیلینج کیا ہے۔
ندیم کی جانب سے سینیئر ایڈوکیٹ ایس ایف اے نقوی نے کہا کہ یہ آرڈیننس آئین کی بنیادی روح کے منافی ہے لہذا اس کے تحت شروع کردہ مجرمانہ طریقہ کار کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے مختلف مذاہب کو ماننے والے جوڑوں کے لیے خصوصی شادی کا قانون نافذ کیا ہے۔
اس میں ممنوعہ شادیوں (جیسے قریبی بہن بھائیوں کی شادی) بھی بیان کی گئی ہے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ایک الگ آرڈیننس لا کر مذہب کی بنیاد پر محدود ازدواجی تعلقات استوار کرنا ایک فرقہ وارانہ اور تفرقہ انگیز قانون ہے۔
انہوں نے استدلال کیا کہ جب مرکزی حکومت نے شادی سے متعلق قانون نافذ کر دیا ہے تو ریاستی حکومت کو اس طرح کے آرڈیننس لانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔