دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ڈاکٹر کسی جانور کے اعضاء کی پیوندکاری ایک مریض میں کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ جنیاتی طور پر ترمیم شدہ خنزیر کے دل کی پیوندکاری کے کامیاب آپریشن کے دو ماہ بعد اس شخص کی موت نے کئی طرح کے سوالات کو جنم دیا ہے اور لوگ یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ کیا مستقبل میں اس طرح کی پیوند کاری ممکن ہے؟ جب ماہرین سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو ماہرین کی ملی جلی رائے سامنے آئی۔ آئیے جانتے ہیں ماہرین کیا کہتے ہیں۔ Can Animal to Human Transplantation Turn Successful
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جانوروں کے اعضاء کو انسانی جسم میں کامیابی کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کرنے کے امکان نہیں ہیں، لیکن اگلے 30 سے 40 برسوں میں یہ ممکن ہوسکتا ہے۔
جانوروں کے اعضاء کو انسانوں میں لگانے کے 17 ویں صدی پرانی تکنیک کو زینوٹرانسپلانٹیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پہلے اس تکنیک کے ذریعہ جانوروں کے خون کو دوسروں میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انسانوں کے اعضاء کی کمی کو دیکھتے ہوئے سائنسدانوں نے بندروں، چیمپینزیوں اور ببون بندر یہاں تک کے خنزیر جیسے غیر انسانی جانداروں کا استعمال کرنا شروع کیا۔ اس تجربے کے لیے خنزیر کو منتخب کیا گیا کیونکہ ان کے اعضاء کا سائز انسانی اعضاء کے قریب ہوتا ہے۔ What is Xenotransplantation
کوچی کے امریتا ہسپتال کے گیسٹرو انٹیسٹائنل سرجری کے شعبہ کے پروفیسر ڈاکٹر سُدھیندرن ایس نے بتایا کہ ' تاہم ابھی تک کسی نے بھی جانوروں سے انسان میں ٹرانسپلانٹ میں کوئی ایسی پیش رفت نہیں کی ہے، جس کا اثر لمبے وقت تک رہے۔ 'ہمیں اگلے 30 سے 40 برسوں میں کوئی بڑی پیش رفت دیکھنے کے امکان نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ اس عمل میں ایسی صورتحال کی ضرورت ہوتی ہے جہاں ایک جانور کا عضو انسانی جسم کے لیے قابل قبول ہوجاتا ہے۔ اگر جسم اس عضو کو قبول نہیں کرتا ہے تو اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یقینی طور پر طویل مدتی کامیابی کے لیے یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔
تاہم گروگرام کے فورٹس ہسپتال کے ڈائریکٹر اور سربراہ ڈاکٹر ادگیتھ دھیر ڈاکٹر سدھیندرن کی بات سے اتقاق نہیں رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق زینو ٹرانسپلانٹیشن کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ جانوروں کے اعضاء کو انسانی جسم کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ بنایا جائے گا۔ "مستقبل میں ہمیں یقین ہے کہ ہم زینو ٹرانسپلانٹیشن کے عمل کو اپنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ جہاں ہم مدافعتی نظام کو ترمیم کریں گے یا مدافعتی نظام کو اس طرح متوازن کردیں گے کہ انسانی جسم ان اعضا کو قبول کرلے گی نہ کہ انہیں مسترد کرے گی'۔
انہوں نے بتایا کہ ' اس شعبہ میں ترقی ہورہی ہے۔ ہم جینیاتی طور پر ان خلیوں کو کیپ کر رہے ہیں یا ماسک کر رہے ہیں جو ان اعضاء کے فوری یا دیر سے مسترد ہونے کا سبب بنتے ہیں اور نئی سیلولر ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ڈی این اے میں ترمیم کر سکتے ہیں جس سے وہ ہمارے جسم کا ایک حصہ بن سکتے ہیں۔ مستقبل میں یقیناً بہت زیادہ کامیاب نتائج سامنے آئیں گے'۔
واضح رہے کہ رواں برس کے جنوری ماہ میں میڈیکل شعبہ میں ایک تاریخ رقم کرنے والے کارنامے کو انجام دیا گیا تھا، جہاں امریکی ڈاکٹر ایک جینیاتی طور پر ترمیم شدہ خنزیر کے دل کی پیوندکاری یا ٹرانسپلانٹ 57 مریض ڈیوڈ بینیٹ کے جسم میں کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ سرجری کے بعد ٹرانسپلانٹ شدہ دل کئی ہفتوں تک بغیر کسی پیچیدگیوں کے اچھے سے کام کیا۔ مریض اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے اور جسمانی تھراپی میں حصہ لینے کے قابل تھا تاکہ وہ دوبارہ طاقت حاصل کر سکے۔ لیکن دو ماہ بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔