سائنسدانوں نے کورونا کے حوالے سے کئی اہم تحقیقات کیے ہیں، جس میں سے سب سے اہم لانگ کووڈ کے اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں بتایا ہے گیا ہے کہ کورونا کے ابتدائی بیماری سے سنبھل جانے کے کئی مہینوں تک 10 میں سے سات مریضوں کو کسی بھی چیز میں توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ لانگ کووڈ کے اہم علامت میں سے ایک ہے۔ Study on Long Covid Patients Suffer Memory Loss
کیمبرج یونیورسٹی کی قیادت میں کووڈ مریضوں کو کتنے وقت تک توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، موضوع پر مطالعہ کیا گیا ، جس میں محققین نے پایا کہ طبی پیشہ افراد نے آدھے مریضوں کی ان علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ ہم ذہنی معاملات کو وہ توجہ نہیں دیتے جو پھیپھٹروں کے مسائل یا تھکاوٹ کو دیتے ہیں۔ لانگ کووڈ کے 181 مریضوں پر مشتمل اس مطالعہ میں 78 فیصد مریضوں نے توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کی شکایت دیکھی گئی، 69 فیصد مریضوں میں برین فوگ، 68 فیصد نے چیزیں بھول جانے کی اطلاع دی اور 60 فیصد مریضوں نے بولتے وقت صحیح لفظ تلاش کرنے میں دشواری کی اطلاع دی۔ یہ علامات کا پتہ تب چلا جب مریضوں کو علمی ٹیسٹ لیا گیا اور الفاظ اور تصاویر یاد کرنے کو کہا گیا۔ جس کے بعد مریضوں میں نمایاں طور پر یاد رکھنے کی صلاحیت میں کمی دیکھی گئی۔ Cognitive
تحقیق میں حصہ لینے والے مریضوں نے اپنی یادداشت کا اندازہ لگانے کے لیے متعدد ٹاسک کیے۔ اس ٹاسک میں ایک فہرست میں لکھے ہوئے الفاظ کو یاد رکھنا شامل تھا، اس کے علاوہ مریضوں سے یہ بھی یاد رکھنے کو کہا گیا تھا کہ اس فہرست میں کون سی دو تصویریں ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ اس ٹیسٹ کے نتائج نے ظاہر کیا کہ کووڈ انفیکشن سے متاثر لوگوں کے دماغ میں ایک مستقل پیٹرن بن رہا ہے جو یادداشت کے مسائل سے جوجھ رہے ہیں۔ وہیں ان لوگوں میں مسائل زیادہ واضح تھے جن کے علامات زیادہ شدید تھے۔ Brain Problems After Covid