مغربی بنگال میں مدرسہ بورڈ کے تحت لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ سرکاری طور پر بنگال میں دسویں جماعت کے مساوی دو بورڈ ہیں۔ مادھیامک اور مدرسہ بورڈ بنگال میں 235 سرکاری مدارس ہیں۔
ہر سال مدرسہ بورڈ کے تحت ہزاروں طلبا دسویں جماعت کے لیے امتحان میں شرکت کرتے ہیں۔
اس سال مغربی بنگال مدرسہ بورڈ کے تحت 51136 طلبا نے دسویں کا امتحان دیا تھا۔ جس میں کامیاب ہونے والے طلبا کی شرح 86.15 ہے۔
گذشتہ سال اس بار نتائج 3 فیصد زیادہ ہے۔ ہائی مدرسہ کے بورڈ کے امتحان میں 15735 لڑکوں نے جبکہ 35401 لڑکیوں نے شرکت کی تھی۔
اس بار بھی لڑکیاں لڑکوں پر سبقت لے جانے میں کامیاب رہیں۔ پورے بنگال میں ضلعی سطح پر سب سے بہتر نتائج مدنا پور ضلع کا رہا۔
مغربی بنگال مدرسہ بورڈ کے چئیرمین ابو طاہر خان نے بتایا کہ، 'گزشتہ سال سے اس بار تمام زمرے میں نتائج اچھے رہے۔ اس بار جنوبی مدنا پور ضلع کے نتائج سب سے بہتر رہے۔ پوری ریاست میں سر فہرست مرشدآباد کے جنگی پور ہائی مدرسہ کی نفیسہ خاتون ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ عالم اور فاضل کے امتحانات میں بھی بہتر نتائج ہوئے ہیں۔ اردو میڈیم اسکولوں میں ہگلی ضلع کے دی ادبی سوسائٹی کی نازیہ کلیم نے پوری ریاست میں اول مقام حاصل کیا ہے۔'
انہوں نے بتایا کہ، 'آئندہ 22 جولائی سے مدارس میں مارکشیٹ دیا جائے گا۔'
اس کے علاوہ انہوں طلبا سے اپیل کی کہ، 'وہ جب مارکشیٹ لینے جائیں تو معاشرتی دوری کا خیال رکھیں۔'
مغربی بنگال کے مدارس تعلیم حاصل کرنے والے غیر مسلموں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ اس بار پوری ریاست میں 760 نمبروں کے ساتھ بیربھوم ضلع کے جگن ناتھ داس نے آٹھواں مقام حاصل کیا ہے۔