بی جے پی کے کارکن کی موت کا معاملہ سی آئی ڈی کے حوالے - آنسو گیس
کوچ بہار ضلع کے پھول باڑی میں واقع اترکونا(ایڈمنسٹریٹو بلڈبگ) گھیراؤ مہم کے دوران بی جے پی کے کارکن کی پراسرار موت کے معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری سی آئی ڈی کو سونپ دی گئی ہے۔

مغربی بنگال پولیس نے کہا کہ کسی پر بھی الزام تراشی سے پہلے پختہ ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمیں بھی اس کا اچھی طرح سے خیال ہے اور لوگوں کو بھی رکھنے کی ضرورت ہے۔
مغربی بنگال پولیس نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے کارکن کی موت کیسے ہوئی ہے فی الحال کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا ہے۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ موصول کے بعد ہی اس معاملے پر سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ مقتول کے جسم پر شٹگن کے حملے سے ہونے والے زخموں کے نشانات پائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران بی جے پی کے کارکن کی موت ربر بلیٹ، آنسو گیس کے گولے پھٹنے سے اور پیلیٹ بلیٹ سے نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس انتظامیہ ایک بات واضح کرنا چاہتی ہے کہ گزشتہ روز پولیس کے اہلکاروں کے شٹگن چھوڑ کر تمام ہتھیار موجود تھے۔
مغربی بنگال پولیس کا کہنا ہے کہ جب پولیس اہلکاروں نے شٹگن کا استعمال کیا ہی نہیں تو پھر بی جے پی کے کارکن کی موت کس چیز سے ہوئی۔
دوسری طرف بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ پولیس کے زیر استعمال سے ہی ہمارے کارکن کی موت ہوئی ہے۔
مغربی بنگال پولیس انتظامیہ پورے معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ہم خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
رہنماؤں نے بی جے پی کے مقتول کارکن کی لاش کی دوبارہ پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال کے کوچ بہار کے پھول باڑی میں اترکونا گھیراؤ مہم کے دوران پولیس اور بی جے پی کے درمیان جھڑپ میں بی جے پی یوتھ مورچہ کے کارکن کی پراسرار موت ہو گئی تھی۔
بی جے پی نے اپنے کارکن کے قتل کے خلاف شمالی بنگال میں 12 گھنٹے کے بند کا اعلان کیا جس کا جزوی اثر دیکھنے کو ملا۔