کولکاتا کے آسام بھون کے باہر احتجاج کرتے ہوئے این آر سی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس موقع پر معروف ماہرین معیشت پرسنجیت بوس، سماجی کارکن انیربن تالپترا اور امتیاز علی ملا بھی موجود رہے۔
جوائنٹ فورم اگینسٹ این آر سی کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ صرف دستاویزات نہ ہونے کی بنیاد پر ملک کے حقیقی شہریوں کو اس طرح سے غیر ملکی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
این آر سی کے خلاف کولکاتا میں احتجاج - این آر سی کے خلاف کولکاتا میں احتجاج
کولکاتا کے آسام بھون کے سامنے 'جوائنٹ فورم اگینسٹ این آر سی' کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے این آر سی کے خلاف احتجاج کیا اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

سماجی کارکن انیربن تالپترا نے کہا کہ 'این آر سی کے نام پر ملک کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کا غلط استعمال کیا گیا ہے'۔
انہوں نے کہا کہ 'جلد بازی میں 19 لاکھ لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کیا گیا، ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'آر ایس ایس کے اشاروں پر یہ سب کیا گیا ہے، اور ایک خاص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب بی جے پی کے لوگ مغربی بنگال میں این آر سی کرانے کی بات کر رہے ہیں'۔
سامجی کارکنوں نے کہا ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے اور اس کے خلاف سڑکوں پر اتریں گے۔
جوائنٹ فورم اگینسٹ این آر سی کے سرگرم رکن امتیاز علی ملا نے کہا کہ 'آسام میں این آر سی کے نام 19 لاکھ افراد کو جس طرح سے شہریت سے محروم کر دیا گیا وہ سراسر زیادتی ہے'۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'کسی طور پر بنگال میں این آر سی نہیں قبول کریں گے این آر سی جب پورے ملک کے لئے ہے تو اس کی شروعات راجستھان اور گجرات سے کیوں نہیں کیا گیا ہے، این آر سی کو فوراً منسوخ کیا جائے اور تمام لوگوں کی شہریت کو بحال کیا جائے'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ملک میں برسوں سے رہنے والے افراد کیسے ممکن ہے کہ اس طرح کے دستاویزات پیش کریں جبکہ آج سے 50 برس قبل اس طرح کے دستاویزات بنانے کا کوئی رواج نہیں تھا اور اس کو عمل میں لانے کا مقصد خصوصی طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے'۔