کولکاتا:مغربی ببگال میں کالج ذرائع کے مطابق سرکلر شائع ہونے کے بعد 10 افراد نے گیسٹ ٹیچر کے عہدے کے لیے بھی درخواستیں دی تھیں۔ لیکن چوں کہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے، اب ان کی درخواست بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔
بانکوڑہ یونیورسٹی میں 300 روپے فی کلاس کے حساب سے عارضی اساتذہ کی تقرری کے نوٹیفکیشن کو لے کر اس سال کے آغاز میں کافی تنازعہ ہوا تھا۔ اس کے بعد تپن کے کالج میں 100 روپے فی کلاس پر اساتذہ کی بھرتی کے نوٹس نے تعلیمی شعبے میں ہلچل مچا دی تھی ۔ بہت سے لوگوں نے شکایت کی کہ اساتذہ کو کم معاوضہ دے کر توہین کی جا رہی ہے۔ کالج ذرائع کے مطابق اس کے بعد کالج انتظامیہ سے براہ راست وکاش بھون سے رابطہ کر کے معافی مانگی تھی ۔سوال کیا گیا تھا کہ وزارت تعلیم کی منظوری کے بغیر گیسٹ لیکچراساتذہ کی تقرری کا نوٹی فیکشن جاری کیوں کیا گیا ۔
جنوبی دیناج پور کے تپن نتھنیال مرمو کالج مینجمنٹ کمیٹی کے صدرامل کمار رائے نے کہاکہ ہم سرکاری قانون سے واقف نہیں تھے۔ اس لیے یہ غلطی ہوئی۔ غلطی کو درست کر دیا گیا ہے۔ پرانا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔
تپن ناتھ نیئل مرمو کالج کی اپنی ویب سائٹ شائع نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ مہمان اساتذہ کے پاس کالج میں پڑھانے کے لیے متعلقہ مضمون میں ماسٹر ڈگری کے علاوہ تمام قابلیتیں ہونی چاہئیں۔ وہ ایک ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 15 کلاسز لے سکتے ہیں۔ ان کا اعزازیہ ہر کلاس کے لیے 100 روپے ہوگا۔ یعنی مہمان اساتذہ کو حساب کے مطابق 1500 روپے فی ہفتہ کمانے ہیں۔ اور چھ ہزار روپے ماہانہ۔ ٹیچنگ کمیونٹی کے ایک حصے کے مطابق کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی اساتذہ کو لمبے عرصے سے فی کلاس 300-500 روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔