جعلی سرٹیفکٹ کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر نے عدالت میں کورونا وائرس سے متاثرہونے کا سرٹیفکٹ دکھا کر عدالت سے ضمانت حاصل کرلی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ جعلی ڈاکٹر نے یہاں بھی جعل سازی کرتے ہوئے عدالت میں جعلی کورونا رپورٹ جمع کرکے ضمانت حاصل کی ہے۔
بدھان نگر پولس کمشنریٹ کے تحت واقع ایکوپارک پولیس اسٹیشن میں واقع ایک نرسنگ ہوم کے ڈاکٹر پر الزام ہے کہ اس نے ایک مریض کا غلط علاج کیا۔خاندان کے ارکان نے ایکو پارک پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔
پولس ذرائع کے مطابق نکھل چندر ائے جو شمالی 24پرگنہ کے باراسات کے دیش بندو نوپارا کے رہنے والے ہیں کو برین ٹیومر تھا۔وہ 30جون کو ایکو پارک پولس اسٹیشن کے تحت واقع نوپاڑہ نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیاتھا اور ان کی موت 12جولائی کو ہوگئی۔ایک لاکھ 75ہزار روپے علاج پر خرچ ہوئے۔
اہل خانہ نے الزام عائدکیا کہ دیش بندو کا غلط علاج کیا گیا ہے اوربعد میں معلوم ہوا کہ علاج کرنے والے کے پاس جعلی سرٹیفکٹ ہے۔ان لوگوں نے اس پورے معاملے سے پولس کو مطلع کیا اور تحریری شکایت کی۔اس بنیاد پر پولس نے ڈاکٹر کے خلاف جانچ شروع کی تو ڈاکٹر بجلی الرحمن ملا اسپتال آنا بند کردئیے اور عدالت سے یہ کہتے ہوئے ضمانت لے لی کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں مگر بعدمیں معلوم ہوا کہ جعلی ڈاکٹر نے یہاں بھی جعل سازی کی ہے اور جعلی سرٹیفکٹ دکھاکر عدالت سے پیشگی ضمانت حاصل کی۔آخر کار پولس نے جعلی ڈاکٹر بجلی الرحمن کو کلیانی سے گرفتار کرلیاہے۔
یہ بھی پڑھیں:محکمہ صحت میں بے ضابطگی اور بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کیلئے تین رکنی کمیٹی