اتحاد علمائے ہند دیوبند کے نائب صدر مفتی اسعد قاسمی نے بھی اس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندو مسلمانوں میں تعلیم جیسی مقدس چیز بھی تقسیم کی جارہی ہے'۔
مفتی اسعد قاسمی نے کہا 'اس ملک کے لئے ایسی چیزیں کی جارہی ہیں،جوٹھیک نہیں ہے، وہ لوگ جو ایسے مسائل کو جنم دیتے ہیں اور ایسے مسائل کو لے کر ہندو مسلم خلیج کو گہرا کرنے کا کام کرتے ہیں ان کے خلاف مرکز اور ریاستی حکومتوں کو کارروائی کرنی چاہئے'۔
تعلیم کو سیاست اور مذہب کے درمیان تقسیم نہ کیا جائے انھوں نے مزید کہا 'جس طرح سے تعلیمی ادارے بی ایچ یو کے اندر مذہب کے نام پر سیاست ہورہی ہے اور تعلیم کو ہندو مسلم میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم ایسے لوگوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کو کم از کم ہندو مسلم کے اندر تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہندو مسلم کی سیاست نہیں کی جانی چاہئے اور تعلیم کو ہندو مسلم کے آئینے سے نہیں دیکھا جانا چاہئے'۔
مفتی اسعد قاسمی نے یہ پیغام دیا 'تعلیم ایک بہت ہی مقدس چیز ہے میں لوگوں کو نصیحت کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کو سیاست اور مذہب کے درمیان تقسیم نہ کیا جائے'۔
پروفیسر فیروز خان بنارس ہندو یونیورسیٹی میں شوبعہ سنسکرت کے پروفیسر تعنات کیے گئے ہیں، ان کی تعناتی کے فوراً بعد ہی طلبہ کی طرف سے اس بات پر ہڑتال کی جا رہی ہے کہ ایک مسلم پروفیسر ہمیں سنسکرت نہیں پڑھا سکتے۔