علی گڑھ مسلم یونیورسٹی Aligarh Muslim University کے بانی سرسید احمد خان یقیناً دوراندیش شخصیت کے حامل تھے۔ ایسا لگتا ہے سر سید احمد خان نے شاید اپنے دور کی عمارات پر اردو کو پتھروں پر اسی لیے نصب کیا ہوگا کیونکہ ان کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی Aligarh Muslim University میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداران خود اردو زبان کا استعمال کرنے سے گریز کریں گے۔
جہاں پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف تقریبات، دعوت نامے، پوسٹر بینرز اور عمارات پر اردو کا استعمال بڑی شان و شوکت، عزت و احترام سے کیا جاتا تھا۔ وہیں گزشتہ کچھ سالوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اردو یونیورسٹی کے نئی عمارات، تقریبات کے پوسٹرز، بینرز، دعوت نامہ یہاں تک کے دفاتر کے لیٹر ہیڈ پر اردو ڈھونڈنے سے بھی نہیں دکھائی دیتی۔
قبل ازیں یونیورسٹی عمارات، دفاتر، پوسٹرز، بینرز پر نام ہرے رنگ پر سفید سیاہی سے لکھے جاتے تھے جو دیکھنے میں نہایت خوبصورت لگتے تھے لیکن اب یونیورسٹی میں مختلف رنگوں کے پوسٹر بینرز اور عمارات کے نام دکھائی دیتے ہیں جن میں اردو کا استعمال بھی کم ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی دفاتر کے لیٹر ہیڈز پر اردو کا استعمال نہ کئے جانے Urdu missing سے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد 9 اپریل 2021 کو یونیورسٹی رجسٹرار عبدالحمید نے ایک سرکلر جاری کیا تھا جس میں ہدایت دی تھی کہ یونیورسٹی کے تمام دفاتر کے لیٹر ہیڈ پر تینوں زبانیں موجود ہونی چاہیے باوجود اس کے اب بھی خاصی تعداد لیٹر ہیڈز کی ایسی ہیں جن پر اردو ڈھونڈنے سے بھی دکھائی نہیں دیتی۔