اردو

urdu

ETV Bharat / state

سی اے اے مخالف مظاہرے کے دوران 110 افراد کو نوٹس - Damage to public and private property

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کے درمیان تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد اترپردیش میں پھیلی کشیدگی کے بعد حالات کےمعمول پر لوٹنے کے ساتھ ریاست میں ضلع انتظامیہ نے تشدد میں ملوث افراد کو سرکاری و پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں نوٹس بھیجنا شروع کردیا ہے۔

سی اے اے مخالف مظاہرے کے دوران 110 افراد کو نوٹس
سی اے اے مخالف مظاہرے کے دوران 110 افراد کو نوٹس

By

Published : Dec 26, 2019, 3:32 PM IST

ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں تقریبا 110 افراد کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اور ان سے 3 دنوں کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔تین دن کے اندر جواب نہ ملنے پر نقصانات کی تلافی کی کاروائی شروع کردی جائےگی۔

پولیس کے مطابق جن افراد کو نوٹس جاری کی گئی ہے ان کی شناخت پولیس کے ذریعہ بنائے گئے ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹوز کے ذریعہ کی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتہ لکھنؤ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں اچانک تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں فائرنگ سے ایک شخص کی موت ہوگئی تھی جبکہ 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

تشدد کے درمیان آگزنی اور توڑ پھوڑ بھی گئی تھی۔ آگزنی کی وجہ سے میڈیا کی وی بی وین سمیت کئی گاڑیاں جل کا خاک ہوگئی تھیں۔ مشتعل مظاہرین نے دو پولیس چوکیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی تھی اور اس کے سامنے کھڑی گاڑیوں میں آگ لگا دی تھی۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ریاست کے مختلف اضلاع میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد میں اب تک تقریبا 17 افراد کی اموات ہوچکی ہیں جن میں سے تقریبا 14 افراد کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

پولیس نے بجنور میں ایک شخص کی موت پولیس گولی سے ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پہلے پولیس نے مظاہرین پر ایک بھی گولی فائر نہ کرنے کا دعوی کیا تھا۔

لکھنؤ کی طرح ریاست کے دیگر اضلاع بریلی، میرٹھ، سہارنپور، بنجور، رامپور، علی گڑھ، بلند شہر،کانپور اور پریاگ راج میں بھی انتظامیہ نے سی اے اے کے خلاف احتجاج میں ملوث ہونے کے الزام میں لوگوں کو نوٹس بھیجنا شروع کردیا ہے۔ بریلی میں انتظامیہ نے احتجاج میں ملوث ہر شخص سے 50 لاکھ روپئے کی ادائیگی کا نوٹس جاری کیا ہے۔

وہیں کسی قسم کا کوئی بھی خطرہ مول نہ لیتے ہوئے آگرہ اور متھرا میں انٹرنیٹ کو آج سے مزید دو دنوں کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔جبکہ تقریبا ایک ہفتے تک انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے بعد اب ریاست کے دیگر اضلاع میں انٹرنیٹ خدمامت کو بحا ل کر دیا گیا ہے۔

ABOUT THE AUTHOR

...view details