اردو

urdu

ETV Bharat / state

Representation of Muslim Women مسلم خواتین کو بھی ہر شعبے میں نمائندگی ملنی چاہیے، ازری مبین - مسلم خواتین کے مسائل

لکھنؤ کی سماجی کارکنان ازری مبین اور زینت نے کہا کہ حکومت مسلم خواتین کی فلاح کی بات تو کرتی ہے لیکن بہت سارے ایسے شعبے ہیں جہاں خواتین کی نمائندگی نہیں ہے، اس لیے حکومت مسلم خواتین کو بھی تمام محکموں میں نمائندگی دے تاکہ ان کی فلاح کا دعویٰ سچ ثابت ہو۔ Lucknow Social Activist on Muslim Women Representation

Representation of Muslim Women
مسلم خواتین کو بھی ہر شعبے میں نمائندگی ملنی چاہیے

By

Published : Dec 26, 2022, 2:37 PM IST

لکھنؤ:برسراقتدار جماعت بی جے پی مسلم خواتین کی ترقی اور خوشحالی کا دعوی کا کررہی ہے، تاہم کئی ایسے مسائل ہیں جن پر موجودہ حکومت کو کام کرنے ضرورت ہے۔ مسلم خواتین تین طلاق پر پابندی سے اتفاق رکھ رہی ہیں تاہم اس پر کرمنل قانون پر بھی اعتراض کررہی ہیں۔ ان کا واضح طور پر کہنا ہے کہ جب شوہر کو جیل میں ڈال دیا جائے گا تو اخراجات کون برداشت کرے گا جبکہ حکومت نے پانچ سو روپے دینے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ناکافی ہے۔ اس حوالے سے لکھنؤ میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی سماجی کارکنان سے بات چیت کی گئی اور ان سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کو کن پہلوؤں پر کام کرنا ضروری ہے تاکہ مسلم خواتین ہمہ جہت ترقی کر سکیں۔

مسلم خواتین کو بھی ہر شعبے میں نمائندگی ملنی چاہیے

خواتین کی حقوق پر کام کرنے والی سماجی کارکن ازرا مبین نے کہا کہ موجودہ حکومت اگر مسلم خواتین کی ترقی و فلاح کے حوالے سے دعویٰ کر رہی ہے تو ان کو ہر شعبے میں نمائندگی دینی چاہیے۔ اتر پردیش میں حکومت کے زیر انتظام کئی ایسے اہم ادارے ہیں جن میں مسلم خواتین کی نمائندگی یا تو نہیں ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو ایک ایک فیصد ہے۔ مثلاً اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ، اتر پردیش مدرسہ بورڈ، ریاستی اقلیتی کمیشن، ریاستی حج کمیٹی سمیت کئی ایسے اقلیتی ادارے ہیں جہاں مسلم خواتین کی نمائندگی ضروری ہے لیکن حکومت نے ان کو جگہ نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے متعدد اضلاع میں چھوٹے کاروبار بہت اہمیت رکھتے ہیں جن میں زیادہ تر مسلم خواتین شامل ہوتی ہیں۔ لکھنؤ میں چکن کاری کے کاروبار سے یہاں کی مسلم خواتین کی کثیر تعداد میں وابستہ ہیں تاہم مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے خواتین پسماندگی کی شکار ہیں۔ ایسے ہی بھدوہی کے قالین کاروبار سے وابستہ خواتین کی مالی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ بی جے پی ان کا سیاسی فائدہ تو حاصل کررہی ہے لیکن ان کی فلاح پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ازرا مبین نے مزید کہا کہ 'مرکزی اقلیتی فلاح و بہبود کی وزیر اسمرتی ایرانی خواتین کے مسائل کو بآسانی سمجھ سکتی ہیں اس لئے امید ہے کہ وہ بہتر کام کریں گی۔ ان سے امید اور بھی بڑھ جاتی ہے لیکن اگر وہ بلقیس بانو کے مجرموں کو رہا کرنے پر آواز بلند کرتی تو مزید امید ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوا جس سے مسلم خواتین میں مایوسی پائی جارہی ہے۔

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی سماجی کارکن زینت نے بتایا کہ حکومت کو مسلم خواتین کے لیے تعلیم، روزگار اور صحت کے میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے، بیشتر خواتین کو صحت کے حوالے سے بنیادی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ وہیں مسلم علاقوں میں گرلز کالج نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اگرچہ مسلم خواتین کی تعلیم و ترقی پر بات کر رہی ہے تاہم ان کے ڈریس کی جب بات آتی ہے تو متعدد تنازعات بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی نیت پر شک و شبہات ہو جاتے ہیں اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو ان تمام میدان میں کام کریں تاکہ مسلم خواتین ہمہ جہت ترقی کر سکیں۔

ABOUT THE AUTHOR

...view details