علیگڑھ: ریاست اترپردیش کے علی گڑھ میں واقع عالمی شہرت یافتہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ گزشتہ کئی ماہ سے یونیورسٹی گورنرگ باڈیز (ایگزیکٹو کونسل، کورٹ، ٹیچرس ایسوسی ایشن) سمیت دیگر انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ لیکن یونیورسٹی انتظامیہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہا ہے جس کے پیش نظر آج یونیورسٹی اساتذہ نے ایک احتجاجی مارچ اسٹاف کلب سے شروع کرکے مختلف فیکلٹیز سے گزرتے ہوئے انجینئرنگ کالج پر ختم کیا۔
مارچ میں اساتذہ نے اپنے ہاتھوں میں پلیں کارڈز بھی لئے ہوئے تھے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ مارچ یونیورسٹی کے منصفانہ اور جمہوری نظام کو یقینی بنانے کے لئے ہے۔ اساتذہ نے احتجاجی مارچ کے دوران صحافیوں سے براہراست کچھ بھی کہنے سے گریز کیا لیکن احتجاجی مارچ کے اختتام پر اس سے متعلق ایک پریس ریلیز جاری کی۔
اے ایم یو اساتذہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز:
ہم آپ کی توجہ مختلف فیصلہ ساز اداروں میں نمائندگی کی کمی اور ادارے کے اندرونی جمہوری کام کو دبانے کے حوالے سے یونیورسٹی میں اساتذہ کو درپیش مسائل کی طرف دلانا چاہتے ہیں۔ سابقہ وائس چانسلر کو متعدد بار گزارشات کرنے کے باوجود ہمارے خدشات دور نہیں ہوئے۔ تاہم 15 اپریل 2023 کو موجودہ انتظامیہ کے ساتھ ہماری میٹنگ کے دوران، بشمول پروفیسر گلریز، جو اس وقت وائس چانسلر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، ہمیں یقین دلایا گیا کہ ہمارے جائز مطالبات پر غور کیا جائے گا۔چند ہی دنوں میں ان کا حل فراہم کیا جائے گا۔