اردو

urdu

ETV Bharat / state

بارہ بنکی: 64 ملازمین نے وی آر ایس کے لیے درخواست دی - 77 thousands employess uses vrs

ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں بھارت سنچار نگم لیمیٹیڈ (بی ایس این ایل) کے 64 ملازمین نے والنٹری رٹائرمیٹ اسکیم (وی ایس آر) کے تحت درخواست دی ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

بی ایس این ایل معاشی بحران کا شکار

By

Published : Nov 19, 2019, 11:43 PM IST

ایک وقت میں ملک کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی رہی بھارت سنچار لیمیٹیڈ (بی ایس این ایل) معاشی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ حکومت کے پاس بی ایس این ایل ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے رقم نہیں ہے۔ اس لئے حکومت 50-60 برس کی عمر والوں کے لئے والینٹری رٹائرمنٹ ایسکیم (وی آر ایس) لے کر آئی ہے۔

بی ایس این ایل معاشی بحران کا شکار

بی ایس این ایل کا یہ دفتر ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں واقع ہے۔ 1998 میں جب اس کی تعمیر ہوئی تھی اس وقت یہ ایشیہ کا سب سے جدید ٹیلی فون ایکسچینج تھا۔ لیکن پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنیوں کی آمد اور حکومت کی خراب پالیسیوں سے بی ایس این ایل بحران کا شکار ہے۔ بی ایس این ایل کے ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی۔ اس لئے وہ حکومت کی وی آر ایس پالیسی کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

بارہ بنکی کے بی ایس این ایل کے اس دفتر میں تقریبآ 300 افسر اور ملازم ہیں۔ ان میں سے 127 ملازم ایسے ہیں جو 50 سے 60 برس کے درمیان ہیں۔ حکومت کی وی آر ایس اسکیم کی وجہ سے اب تک 63 ملازم وی آر ایس کی درخواست کر چکے ہیں۔ ان میں کئی افسر بھی شامل ہیں۔ لیکن ملازمین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس اسکیم کو درست نہیں مانتیں۔

بی ایس این ایل ملازم بی ایس این ایل میں اس بحران کے لئے واضح طور پر حکومت کی اسکیم کو ذمہ دار بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پرائیویٹ کمپنیوں کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ اگر حکومت بی ایس این ایل پر غور کرے تو یہ آج بھی فائیدہ میں آ سکتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پورے بھارت میں بی ایس این ایل کے 77 ہزار ملازمین نے وی آر ایس کے لیے درخواست دی ہے۔

وی آر ایس اسکیم لینے والے شخص کو نوکری کے پورے ہو چکے ہر برس کی بنا پر 35 دن کی نتخواہ اور نوکری کے باقی بجے دن کی بنا پر 25 دن کی تنخواہ کی رقم ملے گی۔

ABOUT THE AUTHOR

...view details