اردو

urdu

ETV Bharat / state

Current Situation of Muslims in India: مسلمانوں کے موجودہ حالات پر حیدرآباد میں سمینار - مسلمانوں کو عالمی قیادت کے منصب سے دور رکھنے کے لیے سازش

مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی نے ارتداد کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے حل پر اپنا بہترین مقالہ پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملک میں بے شمار ارتداد کے واقعات پیش آئے ہیں اور ان کے تدارک کے لیے سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری والدین کی ہے۔ Current Situation of Muslims in India

مسلمانوں کے موجودہ حالات پر حیدرآباد میں سمینار
مسلمانوں کے موجودہ حالات پر حیدرآباد میں سمینار

By

Published : Jul 4, 2022, 1:14 PM IST

حیدرآباد میں علمی سمینار سے علماء کرام اور دانشوروں کا خطاب شہر حیدرآباد مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں الجامعۃ الفاروقیہ کے زیر اہتمام 'مسلم معاشرہ کو بھارت میں درپیش چیلنجس اور دانشوروں کی ذمہ داریاں' کے نام سے ایک علمی سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں حضرت العلامہ مولانا مفتی خلیل احمد صاحب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ، شیخ المفتی حضرت مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی صدر مفتی جامعہ نظامیہ، مولانا حافظ حامد حسین حسان فاروقی، ڈاکٹر مصطفی شریف صاحب سابق پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹی اور مسجد باغ عامہ کے شاہی امام مولانا احسن الحمومی اور دیگر علماء کرام اور دانشوران نے شرکت کی۔ Current Situation of Muslims in India

مسلمانوں کے موجودہ حالات پر حیدرآباد میں سمینار

اس موقع پر ڈاکٹر مصفطی شریف نے بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے سامنے بہت سے چیلنج در پیش ہیں۔ یہ چیلنج اسلامی احکام اور تعلیمات کی وجہ سے کم ہیں اور مسلمانوں کے حالات اور معاملات، رویہ اور اخلاق کی وجہ سے زیادہ ہیں۔ان میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں ملک میں گودی میڈیا کی جانب سے منفی تشہیر ہے اور مسلمانوں کی تصویر بگاڑ دی گئی ہے۔ اس کو کس طرح درست کیا جائے؟ اسلام اور مسلمانوں کی یہ بگڑی ہوئی تصویر اسلام کی دعوت واشاعت کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں خاص طور پر غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی جان ومال کے تحفظ کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہے۔

مسلمانوں کی تصویر بالعموم، شدت پسند، سخت گیر، جھگڑالو، منتقم المزاج، جذباتی، فسادی، انتہا پسند اور دہشت گرد کی بنادی گئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ معاندین بالخصوص مغربی حکومتوں نے مسلمانوں کی یہ تصویر اسلام کے بڑھتے ہوئے عالمی اثرات کو روکنے کے لیے بنائی ہے اور مسلمانوں کو عالمی قیادت کے منصب سے دور رکھنے کے لیے سازش رچی ہے۔ اس کے لیے انھوں نے مسلمانوں میں سے ایسے لوگ بھی منتخب کیے ہیں جو اس سازش کا شکار بن گئے ہیں۔

مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی نے ارتداد کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کا حل پر اپنا بہترین مقالہ پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملک میں بے شمار ارتداد کے واقعات پیش آئے ہیں اور ان کے تدارک کے لیے سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری والدین کی ہے۔ مولانا مفتی انوار احمد قومی میڈیا میں اسلام کے خلاف رپورٹنگ پر جامع مقالہ پیش کیا جس میں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اسلام بالخصوص مسلمانوں کے خلاف قومی میڈیا پر باضابطہ طور پر مہم چلائی گئی انہیں بدنام کرنے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے چلائے گئے ہیں۔ ان حضرات کے علاوہ مختلف علماء کرام اور صحافی حضرات نے مختلف عنوانات کے تحت اپنے اپنے مقالہ جات پیش کیے اور ان میں موجودہ حالات کے پیش نظر ان کا حل بھی بیان کیا۔

مایا

For All Latest Updates

ABOUT THE AUTHOR

...view details