جموں و کشمیر کے لیفیننٹ گورنر منوج سنہا اور کانگریس کے سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے گزشتہ روز کشمیر کے حوالہ سے اہم بیانات جاری کیے۔ جہاں سنہا کا کہنا تھا کہ 'افواہیں بے بنیاد ہیں' وہیں سنگھ کا دعویٰ تھا کہ 'اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو دفعہ 370 کی بحالی کے بارے میں سوچے گی'۔ ان بیانات پر وادی کے سیاسی لیڈران نے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
رکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر حسنین مسعودی کا کہنا تھا کہ 'ہم اُمید کرتے ہیں کہ اب کی بار یہ يقین دہانی سچ ثابت ہوگی۔ میں اب کی بار کیوں کہہ رہا ہوں؟ کیونکہ بالکل ایسی ہی یقین دہانی ہر سطح پر کی گئی تھی۔ چار اگست 2019 سے پہلے۔ ہم کو یاد ہے ہم وزیر اعظم سے ملے، گورنر سے ملے اور اُن سے گزارش کی کہ جموں و کشمیر کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ ہر ایک نے یقین دہانی کی لیکن پھر کیا ہوا آپ سب بہتر جانتے ہیں۔ ہمارے اندیشے سچ ثابت ہوئے۔'
مسعودی نے کہا کہ 'آج کا ہی واقعہ آپ دیکھو، سوپور میں پانچ جانیں گئیں۔ سنہا صاحب کی شخصیت کو دیکھ کر ہم اُمید کرتے ہیں کہ اس بار جو یقین دہانی کی جا رہی ہیں وہ سچ ثابت ہوںگی اور افواہیں غلط۔'
کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ 'اُنہوں نے غلط کیا بولا؟ سنہ 1975 کا ریکارڈ کیا کہتا ہے؟ وہ یقین دہانی کرتا ہے کہ بھارت اور جموں و کشمیر کے درمیان رشتے پر دفعہ 370 حاوی رہے گا۔ دگوجے جی نے اسی ریکارڈ کی ترجمانی کی ہے۔ دفعہ 370 کو بنانے والے نے ضمانت دی تھی کی پارلیمنٹ کو اس قانون میں ترمیم کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔'