سرینگر (جموں و کشمیر) :کشمیر میں کاشتکار روایتی باغبانی کو ترک کرکے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہائی ڈینسٹی باغبانی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم کاشتکاروں کو اس نئی ٹیکنالوجی کے متعلق معقول معلومات نہیں مل پا رہی ہے۔ کاشتکاروں کی اس تشنگی کو دور کرنے کے لئے وادی کشمیر کے ایک نوجوان احسان قدوسی نے ’’آرچڈلی‘‘ کے نام سے ایک اگرو سٹاٹپ شروع کیا ہے۔
احسان قدوسی نے گزشتہ برس یہ سٹاٹ اپ شروع کیا ہے اور ماہرین کی مدد سے باغبانوں کو سائنسی طریقوں سے معقول مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’آرچڈلی‘‘ ایپ کے ذریعے وه باغبانوں کو ہر نوعیت کی جانکاری دیتے ہیں جس میں ادویات کا استعمال، زمین کی نوعیت، درجہ حرارت اور موسم کی صورتحال سے آگاہی ملتی ہے۔
اس سٹاٹ اپ کے ذریعے ابھی تک دس ہزار کاشتکاروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور آئے روز مزید کاشتکار اس اپ سے جڑ رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں گزشتہ کچھ برسوں سے ہائی ڈینسٹی باغات لگائے جا رہے ہیں۔ ان باغات میں درجنوں غیر ملکی اقسام کے اعلی کوالٹی گالا، جیرو مائن سمیت دیگر کئی اقسام کے سیب اگائے جا رہے ہیں۔